نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) کانگریس نے پیر کے روز مرکزی حکومت پرتندوتیز حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی (ڈی لمیٹیشن) کی سازش رچ رہی ہے۔
کانگریس کے سوشل میڈیا شعبہ کی چیئرپرسن سپریہ شرینیت نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ستمبر 2023 میں لائے گئے ‘ناری شکتی وندن ادھینیم’ کے وقت ہی حکومت کی نیت صاف نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ پہلے مردم شماری اور پھر حد بندی ہوگی، اس کے بعد ہی خواتین کے لیئے ریزرویشن کا نفاذ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے بغیر کسی شرط کے 2024 میں ہی خواتین کے ریزروشن کے نافذ کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ خواتین فوری طور پر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پہنچ سکیں۔
محترمہ شرینیت نے کہا کہ اب 30 ماہ بعد وزیراعظم نریندر مودی اپنی ہی حکومت کے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک اخبار میں شائع سونیا گاندھی کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کاریزرویشن اب مسئلہ نہیں ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی منظور ہو چکاہے ، بلکہ اصل تشویش حد بندی کے تعلق سے ہے-کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین کے ریزروشین کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی۔ انہوں نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم کے ذریعے پنچایتی راج اداروں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دیا گیا، جس کی وجہ سے آج 15 لاکھ سے زیادہ خواتین مقامی اداروں میں سرگرم ہیں۔
انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات کے درمیان خصوصی اجلاس بلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے کل جماعتی میٹنگ کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حال ہی میں پارلیمنٹ کا سیشن ہوا تھا تو ان مسائل پر اسی وقت بحث کیوں نہیں کی گئی اور انتخابات کے دوران ہی خصوصی اجلاس بلانے کی کیا ضرورت ہے؟
قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے اپنے مضمون کے ذریعے حکومت پر خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔










