خطے کے سیاسی و سماجی حلقوں نے اطمینان ‘ لداخ کو باقاعدہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ دوہرایا ‘اجرا کئے گئے کارڈ خود ایپ ڈیٹ ہو ں گے
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۳؍اپریل
لداخ کے باشندوں کی شناخت اب جموں کشمیر نہیں بلکہ لداخی کے طور ہوگی۔
پیر کے روز یُونیک آئیڈنٹفکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے اپنے ڈیٹا بیس میں لداخیوں کے شناختی کارڈ ’آدھار‘ میں اب ریاست کی جگہ جموں کشمیر کی بجائے اب لداخ لکھا جائے گا۔
اس فیصلے پر لداخ کے سیاسی و سماجی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کرکے لداخ کو باقاعدہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ دوہرایا ہے، تاہم آر ایس ایس کی حامی جماعت شِوسینا نے اسے ’جموں کشمیر کی جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کے خلاف سازش‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے۲۰۱۹میں آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی کے وقت لداخ کو کشمیر سے الگ کرکے علیحدہ خطہ بنایا گیا جس کا انتظام براہ راست نئی دلی کے ہاتھ میں ہوگا۔
لداخ انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی ذاتی مداخلت کے بعد یہ دیرینہ مسئلہ حل ہوا ہے۔ اس سے پہلے لداخ کا پن کوڈ ڈالنے پر بھی ریاست کے خانے میں جموں و کشمیر ہی ظاہر ہوتا تھا، جس سے لداخی عوام کو شناختی دستاویزات اور سرکاری مراعات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اب عوام کو انفرادی طور پر آدھار سینٹرز پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ڈیٹا بیس میں خودکار طریقے سے یہ تبدیلی کر دی گئی ہے۔
جہاں لداخ کی انتظامیہ اس فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں جموں میں شیو سینا (یو بی ٹی) نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے دونوں خطوں کے درمیان دوری پیدا کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔
جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیو سینا جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔
ساہنی نے الزام لگایا کہ ’مرکزی حکومت نے پہلے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ چھینا، اسے ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا، اور اب وہ سرکاری کاغذات پر لکیریں کھینچ کر لوگوں کے دلوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
شِو سینا کے رہنما نے مزید کہا کہ، ’لداخ اور جموں و کشمیر کا رشتہ محض جغرافیائی نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں پرانی مشترکہ ثقافت، روایات، تجارت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ کسی بھی نوکر شاہی کے فیصلے سے اس رشتے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘
ساہنی نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کیا جائے اور یہاں کے لوگوں کی زمین، ملازمت اور ثقافتی شناخت کو تحفظ دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل۳۷۱ کے تحت خصوصی دفعات نافذ کی جائیں۔
اگرچہ لداخ کی مقامی اور بی جے پی نواز قیادت نے اس فیصلے کو انتظامی سہولت اور لداخی خود مختاری کی علامت کے طور پر خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن جموں و کشمیر کی مقامی اور لداخ کی چند اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔
حکمرا ن نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ’ حکومت ایسے علامتی اقدامات کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ اصل مسئلہ لداخ اور جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق، ریاستی درجہ، اور زمین و ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے جو۵؍اگست۲۰۱۹ کو چھین لیے گئے تھے۔‘










