کولکاتہ، 10 اپریل (یو این آئی) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا منشور جاری کیا، جس میں خواتین کے لیے متعدد اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے۔
مسٹر شاہ نے اس منشور کو "سنکلپ پتر” کا نام دیا۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ اگر بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو ریاست میں ایک مضبوط، باصلاحیت اور اہل وزیر اعلیٰ کا تقرر کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ بنگال کا ہی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی منشور میں کرمالی اور راجبونگشی زبانوں کو آئین کی آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کی پہل کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
اپنے خطاب میں شاہ نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں مضبوط مقامی قیادت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اعتماد کا دور لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بنگال کا ہی ہوگا اور مرکز کے ساتھ بہتر تال میل کے ساتھ کام کرے گا۔
بی جے پی نے مغربی بنگال میں اقتدار میں آنے کے ہدف کے ساتھ اپنے سنکلپ پتر میں روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے، زراعت، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مبنی ایک جامع روڈ میپ پیش کیا ہے۔
پارٹی نے اگلے پانچ برسوں میں ایک کروڑ روزگار اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کو ہر ماہ 3,000 روپے کی مالی مدد اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے 15,000 روپے کی اسکالرشپ دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
خواتین کے لیے ہر ماہ 3,000 روپے کی مالی امداد، سرکاری ملازمتوں میں 33 فیصد ریزرویشن، خواتین پولیس بٹالین اور درگا سکیورٹی اسکواڈ کے قیام کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حاملہ خواتین کو 21,000 روپے کی مدد اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
منشور میں کسانوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس میں دھان، آلو اور آم کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ماہی گیروں کو پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا سے جوڑنے کا وعدہ کیا گیا ہے تاکہ بنگال کو ایک بڑا مچھلی برآمد کرنے والا ریاست بنایا جا سکے۔
بی جے پی نے تاج پور اور کلپی میں گہرے سمندر کے بندرگاہوں کی تعمیر، سنگور میں صنعتی پارک قائم کرنے اور بند پڑی جوٹ ملوں کو دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی پیش کی ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف ہے۔
منشور میں آیوشمان بھارت سمیت تمام مرکزی اسکیموں کو ریاست میں مکمل طور پر نافذ کرنے، مفت ایچ پی وی ویکسینیشن اور بریسٹ کینسر اسکریننگ جیسی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ساتویں تنخواہ کمیشن کو 45 دنوں کے اندر نافذ کرنے اور مرکز کے برابر مہنگائی بھتہ دینے کی بات بھی کہی گئی ہے۔










