روپے پیسوں کے پیچھے بھاگنے والی اس دنیا میں کمبخت جذبات اور احساسات کھوٹے سکے کی حیثیت رکھتے ہیں ….جی ہاں کھوٹے سکے جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ….بالکل بھی نہیں ہوتی ۔ہاں اگر ہم ایک دو سو سا ل پیچھے چلے جائیں تو ممکن ہے کہ اُس وقت کسی کسی کےلئے جذبات اور احساسات کوئی معنی رکھتے تھے ‘ لیکن صاحب آجکل کی دنیا میں نہیں ….بالکل بھی نہیں ۔دنیا بڑی تیز ہو گئی ہے‘ اس کی رفتار ‘برق رفتار ہے اور ایسے میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ خود کو جذبات کی رو میں بہنے دے۔آج کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ حقیقت کی دنیا میں رہتے ہیں ‘ایسی دنیا جس کا دین دھرم روپے پیسہ ہے اور کچھ نہیں ۔ لوگوں کو صرف روپے پیسے سے غرض ہے ‘کسی اور بات سے نہیں ….جذبات اور احساسات سے بالکل بھی نہیں ۔ یہ روپے پیسے غریب کی بھی ضرورت ہے اور امیر کی ہے ۔ غریب ملک کی بھی اور امیر ملک کی بھی ۔روپے پیسوں سے ہی اور روپے پیسوں کےلئے ہی آج کی دنیا میں رشتے بنتے اور بگڑتے ہیں ….دوست دشمن بن جاتے ہیں اور دشمن دوست ۔یہ روپے پیسہ ہی ہے جو آجکل لوگوں کا خدا بن گیا ہے …. لوگوں کا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کا….دنیا کے سارے ممالک کا ‘ امیر ممالک کا بھی اور غریب ممالک کا بھی ۔ مادی فوائد ہی طے کرتے ہیں کہ کس کے ساتھ کس طرح کے تعلقات استوار کرنے ہیں اور یہی آج کی سچائی اور حقیقت ہے ۔آجکل کے رشتوں میں جذبات اور احساسات کےلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔پہلے غزہ اور پھر ایران اور لبنان میں ہم نے یہ دیکھ لیا ….یہ دیکھ لیا کہ دنیا محض تماشائی کا کردار نبھاتی رہی اور ان ممالک میں عام شہریوں کی ہلاکتوںپر مگر مچھ کے آنسو بھی نہیں بہائے ….بالکل بھی نہیں بہائے ۔اور اس لئے نہیں بہائےے کیونکہ ہر کوئی ملک اپنے حصے کا حصہ حاصل کرنے کی دوڈ میں ہے کہ ممالک کے باہمی تعلقات میں اقتصادیات نے جذبات اور احساسات کو بے دخل کر کے ان کی جگہ حاصل کر لی ہے ۔ اور یہی اس ۲۱ویںصدی کی حقیقت۔یہ حقیقت کہ جذبات اور احساسات چاہے کسی قوم کےلئے کتنے ہی اہم اور مقدم ہوںان کی حیثیت کھوٹے سکوں سے زیادہ کچھ نہیں…. بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟
’’’’’’’’’’’’




