اگر یہی کرنا تھا تو ……. امریکہ کو یہی کرنا تھا ‘ سیز فائر کرنا تھا ‘ بات چیت کو ایک موقع دینا تھا تو صاحب اس نے اسرائیل سے مل کر وہ کیوں کیا جو اس نے ۴۰ دن تک کیا …….ایران میں کیا ؟اللہ میاں کی قسم ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ساتھ ہزاروں ‘ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اور اربوں لوگ ایسے ہیں ‘ایسے ہوں گے جن کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہو گی …….حالانکہ وہ یہ سمجھ رہے ہیں ……. اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ ……. کہ ٹرمپ کو نیتن یاہونے بے وقوف بنایا اور ……. اور ٹرمپ نے بے وقوف بننے میں خوشی محسوس کی اور فخر بھی ۔کہتے ہیں کہ جنگوں کا خاتمہ بھی میز پر ہی ہو تا ہے اور ……. اور حالانکہ یہ محض ۲ ہفتوں کا ہی سیز فائر ہے ……. نازک سیز فائر‘ لیکن اس دوران بھی ایران اور امریکہ میز پر ہی واپس لوٹیں گے ……. واپس لوٹ آئیں گے ‘ جنگ کے میدان میں نہیں ۔جنگ سے پہلے بھی دونوں مذاکرات کی میز پر ہی تو تھے ……. بات چیت کررہے تھے اور دونوں اگر اس بات چیت میں ہو رہی پیش رفت سے مطمئن نہیں تھے ‘ لیکن پر امید ضرور تھے ……. لیکن ……. لیکن کیا کیجئے گا جب عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں تو ……. تو پھر صحیح اور غلط میں تمیز کرنا مشکل نہیں ناممکن بن جاتا ہے اور ……. اور اللہ میاں کی قسم جب ٹرمپ ہوں ‘ جب عقل ان کی ہوتو ……. تو ان کی عقل پر پردے ڈالنا سب سے آسان کام ہے …….سب سے آسان ۔اور اللہ میاں کی قسم کوئی بڑی بات نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے کہ ……. کہ ٹرمپ صاحب کی عقل پر پھر پردے پڑ جائیں اور سیز فائر کے دوران ……. یااس کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے صبر کا پیمانہ پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے …….اور یہ ایک بار پھر نیتن یاہو کے دام فریب میں آجائیں اور……. اور مذاکرات کی میز سے نو دو گیارہ ہو جائیں …….پھر سے ایران کی پوری تہذیب کو دنیا سے ملیا میٹ اور نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے ڈالیں کہ ……. کہ نیتن یاہو ،ٹرمپ صاحب کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں اور ٹرمپ صاحب ناچتے ہیں …….خوشی سے ناچتے ہیں ۔خیر!دنیا بھی خوشی میں ناچ رہی ہے‘ جھوم رہی ہے اور ……. اور اس لئے جھوم رہی ہے کہ ٹرمپ صاحب کی عقل پر سے پردے ہٹ گئے اور یہ واپس میز کی طرف لوٹ آئے ہیں اور……. اور اس لئے لوٹ آئے ہیں کہ جنگیں میدانوں میں نہیں میز پر ہی ختم ہو تی ہیں ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




