’جنگ بندی سے وہ آبنائے ہرمز کھل گئی جو جنگ سے پہلے بھی کھلی تھی‘
ایجنسیز
جموں؍۸؍ اپریل
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی ’غیر منصفانہ جنگ‘ کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی گئی، جو تنازع سے قبل ہی سب کے لیے آزادانہ طور پر دستیاب تھی۔
عمر عبداللہ نے اپنے ذاتی ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا’’تو جنگ بندی ایک ایسی آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتی ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے سب کے لیے کھلی اور آزادانہ طور پر دستیاب تھی۔ آخر اس۳۹ روزہ جنگ نے امریکہ کیلئے کیا حاصل کیا؟غیر منصفانہ جنگ‘‘ ۔
امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے وفود کے درمیان یکم مارچ کے بعد پہلی کھلی سفارتی ملاقات جمعہ کو اسلام آباد میں متوقع ہے۔
اس دوران نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے کیونکہ جنگ کبھی بھی حل نہیں رہی۔
فاروق عبداللہ نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے امریکہ اور ایران کو یہ ہمت دی کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور اپنے مسائل حل کریں، کیونکہ بات چیت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے‘‘۔
این سی صدر نے کہا’’جنگ کبھی حل نہیں رہی اور نہ کبھی ہوگی۔ اس لیے میں اور ہماری عوام کی جانب سے ان ممالک (امریکہ اور ایران) کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ بیٹھ کر بات کریں گے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ امن کی بات کریں کیونکہ اس جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر نے کہا کہ وہ امن چاہتے ہیں کیونکہ ملک کے کئی لوگ، خاص طور پر جموں و کشمیر سے، عرب ممالک میں کام کرتے ہیں۔’’ہم وہاں کام کرنے والے لوگوں کی حالت کے بارے میں فکر مند ہیں جو اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جنگ بند ہو جائے‘‘۔
فاروق عبداللہ، جو۲۰۰۹ سے۲۰۱۴کے درمیان وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی کابینہ میں مرکزی وزیر رہ چکے ہیں، نے امید ظاہر کی کہ بھارت کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
امریکہ کی جانب سے ایران کی۱۰نکاتی تجویز قبول کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے تجاویز موجود ہیں اور ان پر بات چیت ہوگی۔انہوں نے کہا،’’مجھے امید ہے کہ بھارت بھی اپنی مدد فراہم کرے گا کیونکہ وہ امریکہ کا دوست ہے، کیونکہ اس کا ہم پر بھی بڑا اثر پڑے گا‘‘۔
ڈاکٹر فارو ق نے کہا’’خدا انہیں اس مقام تک لے جائے جہاں امن قائم ہو جائے‘‘۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے متعلق سوال پر این سی سربراہ نے کہا کہ اسرائیل بھی نقصان اٹھا رہا ہے اور وہ اس سے بچ نہیں سکا۔ انہوں نے کہا ’’وہاں بھی بہت تباہی ہوئی ہے اور وہ جنگوں کے ذریعے اسے ختم نہیں کر سکتے‘‘۔
فاروق عبداللہ نے جنگ بندی کا سہرا کسی ایک ملک کو دینے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ یہ خدا کا کرم ہے۔ ’’میں کسی ملک کو اس کا کریڈٹ نہیں دوں گا بلکہ یہ کہوں گا کہ خدا نے ایک راستہ بنایا ہے اور وہ اس راستے پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
چین اور روس کا حوالہ دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی، اور اگر بھارت کو ترقی کرنی ہے تو’’ہمیں ہر ملک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہوگا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہم دوستی کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں جبکہ دشمنی ہمیں پیچھے لے جائے گی۔ میں پاکستان کو بھی کہوں گا کہ وقت آ گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو چھوڑ کر خوشحالی اور بھائی چارے کا راستہ اختیار کرے۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘‘ (ایجنسیاں)










