واشنگٹن، 7 اپریل (یواین آئی) امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دنیا کی نظریں آج کی ڈیڈ لائن پر مرکوز ہیں، جبکہ ممکنہ معاہدے یا مزید تصادم کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ مہلت میں توسیع پر غور کے لیے مثبت پیش رفت ضروری ہوگی، تاہم ایک امریکی اہلکار نے اس امکان پر شکوک ظاہر کیے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے نوجوانوں کو بجلی گھروں کے گرد "انسانی ڈھال” بنانے کی اپیل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس ایرانی ردعمل کو انکار کے بجائے مذاکراتی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ثالثوں کا خیال ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی کا عمل سست ہے اور وہ تجاویز میں ترامیم پر کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نجی گفتگو میں معاہدے کے حوالے سے زیادہ پُر امید نہیں ہیں، جبکہ اسرائیلی اخبار معاریف کے مطابق اسرائیل سمجھتا ہے کہ جنگ ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اہداف ابھی مکمل نہیں ہوئے اور فوجی دباؤ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران میں سپریم کونسل برائے نوجوانان کے سیکریٹری علی رضا رحیمی نے سرکاری ٹی وی پر نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بجلی گھروں کے گرد جمع ہو کر "انسانی زنجیر” بنائیں تاکہ ان قومی تنصیبات کا تحفظ کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس سے قبل بھی حساس تنصیبات کے گرد اس نوعیت کے اقدامات کر چکا ہے۔
کشیدگی کے اس ماحول میں جنگ بندی کی شرائط اور وقت کے حوالے سے دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ سی این این کے مطابق ایک ایرانی ذریعے نے کہا ہے کہ تہران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن امریکی شرائط اور ٹائم لائن قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان کے ذریعے پیش کی گئی تجویز پر تہران نے 10 نکاتی جواب دے دیا ہے، جس میں مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کے لیے محفوظ گزرگاہ، پابندیوں کے خاتمے اور تعمیر نو جیسے نکات شامل ہیں۔








