واشنگٹن،7 اپریل (یو این آئی) امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے کہا ہے کہ چاند کی طرف اس کا مشن آرٹیمس 2 کی مدد سے پیر کی رات انسان خلا میں اتنی دور جائے گا، جتنی دور انسانی تاریخ میں آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا ہے۔ اسے انسانیت کی تاریخ میں ایک بہت بڑی چھلانگ قرار دیا جا رہا ہے۔
ناسا کے مطابق بنی نوع انسان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ انسان زمین سے اتنی دوری کا سفر طے کرے گا، جس تک آج تک کوئی خلا باز نہیں پہنچ سکا۔ یہ مشن نہ صرف چاند کے قریب جانے کی ایک کوشش ہے بلکہ گہری خلا کی ان حدود کو عبور کرنے کی بھی تیاری ہے جو اب تک صرف سائنس فکشن اور دوربینوں کے ذریعے دیکھی جاتی تھیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ سفر انسانیت کی ‘سب سے طویل چھلانگ’ ثابت ہوگی۔
اس تاریخی سفر کے دوران اورین خلائی جہاز پر سوار چار بہادر خلاباز چاند کے بہت دور یعنی ’فار سائیڈ‘ کے پیچھے سے گزریں گے۔ یہ راستہ انہیں زمین سے تقریباً 4 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ دور لے جائے گا۔ ایسا کرکے آرٹیمس اپالو 13 مشن کے دہائیوں پرانے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
اگرچہ یہ عملہ چاند کی سطح پر قدم تو نہیں رکھے گا، لیکن ان کی موجودگی مستقبل کے بڑے مشنز، جیسے مریخ تک پہنچنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھے گی۔ ناسا نے واضح کیا ہے کہ اس فاصلے کو طے کرنے کا بنیادی مقصد ان نظاموں کی سخت جانچ کرنا ہے جو گہری خلا میں انسانی زندگی کو یقینی بناتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ خلاباز کائنات کی اس وسیع گہرائی میں ہوں گے تو زمین وہاں سے ایک چھوٹے سے نیلے نقطے کی طرح نظر آئے گی۔ ناسا کے سائنسدانوں نے اس مشن کو ‘نیو ایرا آف ایکسپلوریشن’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اب صرف چاند پر واپس جانے کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس سے بھی کہیں آگے جانے کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں۔ آرٹیمیس II کا یہ عظیم سفر یہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہے کہ انسانیت اب مستقل طور پر زمین کے مدار سے نکلنے اور ستاروں کے درمیان اپنی ایک نئی شناخت بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
اس مشن میں چار خلاباز شامل ہیں: ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن۔ وہ 50 سال سے زیادہ عرصے میں چاند کے قریب پہنچنے والے پہلے انسان ہوں گے۔ اگرچہ وہ نیل آرمسٹرانگ کی طرح چاند پر نہیں اتریں گے لیکن ان کا یہ سفر مستقبل میں مریخ پر جانے والے انسانی مشنز کے لیے ’گیٹ وے‘ ثابت ہوگا۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ صرف فاصلہ طے کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ گہری خلا میں رہنے اور کام کرنے کی ہماری صلاحیت کا امتحان ہے۔ جب خلائی جہاز زمین سے لاکھوں کلومیٹر دور ہوگا تو وہاں سے زمین ایک چھوٹے نیلے کنچے جیسی نظر آئے گی۔








