ون نیشن، ون الیکشن اور یونیفارم سول کوڈ مسائل پر ملک میں سنجیدہ بات چیت ہو رہی ہے:وزیر اعظم مودی
’ آرٹیکل۳۷۰ دہائیوں تک جموں و کشمیر کو ملک کے باقی حصوں میں مکمل طور پر ضم کرنے میں رکاوٹ تھا‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۶؍ اپریل
وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ یکساں شہری ضابطہ (یونیفارم سول کوڈ) اور ’ون نیشن، ون الیکشن‘بی جے پی کے دو ادھورے ایجنڈے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر سنجیدہ بات چیت ہو رہی ہے، اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
بی جے پی کے۴۷ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے یہ بھی کہا کہ یہ بی جے پی ہی تھی جس نے۱۹۹۴میں خواتین کے تحفظ کا مسئلہ سب سے پہلے اٹھایا، جبکہ موجودہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت اس بات کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے کہ خواتین کے تحفظ کا قانون (ویمنز ریزرویشن ایکٹ) جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳فیصد تحفظ فراہم کرے گا ‘۲۰۲۹ کے عام انتخابات میں نافذ کیا جائے۔
کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں نے کانگریس کی حکومت کے دور میں بہت سی مشکلات جھیلیں جیسے ایمرجنسی اور ظلم و ستم۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے کئی کارکنوں نے اپنی جانیں بھی قربان کی ہیں، جیسا کہ مغربی بنگال اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں دیکھا گیا ہے ’’جہاں تشدد کو سیاسی ثقافت بنا لیا گیا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا’’ہمارا مشن ابھی جاری ہے۔ یکساں شہری ضابطہ،’ون نیشن، ون الیکشن‘اور دیگر مسائل پر ملک میں سنجیدہ بات چیت ہو رہی ہے، اور ہم نے ان محاذوں پر زبردست پیش رفت کی ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی کا مقصد ملک کو ترقی یافتہ اور خود انحصار بنانا ہے، اور وہ اس سمت میں آگے بڑھتی رہے گی۔
’ون نیشن، ون الیکشن‘نظام کے تحت، مودی حکومت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے لیے بیک وقت انتخابات کرانے کی تجویز پیش کرتی ہے۔ یکساں شہری ضابطہ پورے ملک میں مذہب سے قطع نظر سب کے لیے یکساں قوانین بنانے کی کوشش کرتا ہے، خاص طور پر شادی، گود لینے وغیرہ کے حوالے سے۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ان کاکہنا تھا’’بے شمار کام ہیں جو بی جے پی کی ایماندارانہ کوششوں کا نتیجہ ہیں، جیسے برطانوی دور کے سیکڑوں کالے قوانین کا خاتمہ، نئی پارلیمنٹ عمارت کی تعمیر، عمومی زمرے میں غریبوں کے لیے۱۰ فیصد تحفظ، تین طلاق پر پابندی، شہریت ترمیمی قانون، ایودھیا رام مندر کی تعمیر‘‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ بی جے پی ہی تھی جس نے پہلی بار۱۹۹۴میں وڈودرا میں خواتین کے تحفظ کی تجویز پیش کی تھی۔
مودی نے کہا’’ہم نے یہ بھی طے کیا تھا کہ ہم اپنی پارٹی تنظیم میں خواتین کی حوصلہ افزائی کریں گے جہاں تک ممکن ہو۔ جب ہم اقتدار میں آئے تو ہم نے وہ وعدہ پورا کیا۔ اب ہم اس بات کے لیے مکمل طور پر وقف ہیں کہ ناری وندن ایکٹ (خواتین تحفظ قانون)۲۰۲۹کے عام انتخابات میں نافذ کیا جائے‘‘۔
جاری مغربی ایشیا تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ بی جے پی جنگ کے وقت بھی ’وسودھیو کٹمبکم‘ (دنیا ایک خاندان ہے) کے تصور پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہندوستان ہر ملک سے یکساں فاصلہ برقرار رکھنے پر فخر کرتا تھا، لیکن اب یہ ہر ملک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے وجود کے۲۵سال مکمل کر لیے ہیں، مودی نے کہا کہ یہ واحد اتحاد ہے جو ملک کے مفادات اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا ’’بی جے پی نے اتحادی سیاست میں ایک مثال قائم کی ہے۔ این ڈی اے کی مسلسل توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک جامع اتحاد ہے۔ یہ علاقائی خواہشات کو ترجیح دے کر کام کرتا ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ لوگوں نے خاندانی سیاست دیکھی ہے، جو ملک کے بعض حصوں میں اب بھی رائج ہے، اور بائیں بازو کی حکمرانی کا نمونہ، لیکن بی جے پی کا طرز حکمرانی منفرد ہے۔وزیر اعظم نے کہا’’ہمارے طرز حکمرانی کے تحت، پالیسیاں اور حکومتیں مستحکم ہیں‘‘۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی کا اپنا ایجنڈا اور مقاصد ہیں، اور موجودہ بحران سے نمٹنے کے علاوہ، پارٹی کی قیادت والی حکومت ملک کو مستقبل کے لیے تیار کر رہی ہے۔‘‘مختلف مسائل پر کام جاری ہے جیسے آبادیاتی تبدیلی، دراندازی، بدعنوانی، خاندانی سیاست، اور لوگوں کو غلامانہ ذہنیت سے آزاد کرانا۔ بی جے پی کو ملک کو ان تمام چیلنجوں سے آزاد کرانا ہے۔ یہ ذمہ داری صرف بی جے پی ہی پوری کر سکتی ہے‘‘۔
۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰ (جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی) کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ دہائیوں تک یہ قانون جموں و کشمیر کو ملک کے باقی حصوں میں مکمل طور پر ضم کرنے میں رکاوٹ تھا۔انہوں نے کہا’’لوگوں نے سوچا تھا کہ آرٹیکل۳۷۰ ختم کرنا ناممکن ہے، لیکن ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اسے ختم کریں گے۔ ہم نے یہ کام مکمل کر لیا ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر مستقل موقف رکھتی ہے، اور اب سرحدی سلامتی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز لگائی جا رہی ہیں، سرحدی دیہاتوں کو ترقی دی جا رہی ہے، اور نکسلائٹس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ’’وسیع اور مقدس برگد کے درخت” کے نیچے، بی جے پی کو نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ سیاست میں قدم رکھنے کی تحریک ملی۔ان کاکہنا تھا’’پہلی چند دہائیوں میں، ہم نے اپنی توانائی تنظیم کے لیے پالیسیاں ترتیب دینے میں صرف کی‘‘۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پارٹی یہ نہیں بھول سکتی کہ۱۹۸۴میں، کانگریس نے ریکارڈ تعداد میں سیٹیں جیتی تھیں، لیکن ملک نے یہ بھی دیکھا کہ انہوں نے عوام کے ساتھ کس طرح دغا کیا۔انہوں نے کہا ’’اس سے بی جے پی پر عوام کا اعتماد بڑھا، اور آہستہ آہستہ ہم نے سیٹیں جیتنا شروع کر دیں۔ اس وقت دو طرح کے سیاسی نظریات موجود تھے: ایک طاقت پر مبنی تھا، اور دوسرا خدمت پر مبنی۔ وہ سیاست جس نے طاقت کو ترجیح دی آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوئی، اور خدمت پر مبنی سیاست کو عوام کی زبردست حمایت ملی۔ آج ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اپنے طرز عمل سے ہندوستانی سیاست میں ایک نیا اصول قائم کیا ہے: قوم اول کا اصول‘‘۔
اس سے قبل، ایک ایکس پوسٹ میں، مودی نے پارٹی کے یوم تاسیس پر بی جے پی کارکنوں کو مبارکباد دی۔بی جے بی ۶؍اپریل۱۹۸۰کو قائم ہوئی تھی۔انہوں نے کہا ’’ہماری پارٹی ہمیشہ معاشرے کی خدمت میں سب سے آگے رہی ہے، ‘انڈیا فرسٹ’ کے اصول سے رہنمائی لیتی ہوئی۔ ہمارے ‘کارکن’ اپنی بے لوث خدمت، اٹل لگن اور اچھی حکمرانی کے لیے گہرے جذبے کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے نچلی سطح پر انتھک محنت کی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہمارے نظریے اور کاموں سے جڑ سکیں۔ ہم ان لاتعداد کارکنوں کو بھی یاد کرتے ہیں جن کی لگن، قربانی اور استقامت نے دہائیوں میں پارٹی کی ترقی کو شکل دی ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی ایک ایسی پارٹی کے طور پر کھڑی ہے جو لوگوں کی فلاح و بہبود کو اپنے وژن کے مرکز میں رکھتی ہے، اور یہ مرکز اور مختلف ریاستوں میں ہونے والے کاموں میں جھلکتا ہے۔ان کاکہناتھا‘‘بی جے پی ایک وکست بھارت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا اجتماعی عزم اس وژن کو آگے بڑھاتا رہے اور ہندوستان کو ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک لے جائے۔‘‘










