سرینگر؍۴؍اپریل
جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں یکم اپریل کو تصادم میں مارے گئے شخص کے پاس سے ملے اے ٹی ایم کارڈ سے تفتیش کاروں نے اس کی شناخت کر لی ہے۔
سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ فوج نے یکم اپریل کو دعویٰ کیا تھا کہ گاندربل کے ارحامہ میں پولیس کے ساتھ مشترکہ مہم میں ایک دہشت گرد مارا گیا ہے۔
متوفی کے اہل خانہ نے اس کی شناخت۲۸ سالہ راشد احمد مغل کے طور پر کی، جو کامرس میں پوسٹ گریجویٹ تھا۔ اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور انہوں نے اسے ’فرضی‘ انکاؤنٹر قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس تنازعہ کے درمیان، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو اس انکاؤنٹر کی مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیا اور انصاف کا یقین دلایا۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انکاؤنٹر کے دوران متوفی کا چہرہ بری طرح مسخ ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کی شناخت کرنا مشکل ہو گئی تھی۔ متوفی کی تلاشی کے دوران پولیس کو اس کی جیب سے ایک اے ٹی ایم کارڈ ملا، جو اس کی شناخت کے سلسلے میں سب سے اہم دستاویز ثابت ہوا۔
اے ٹی ایم کارڈ کی تفصیلات سے پولیس نے متوفی کی شناخت کی اور اس کے خاندان سے رابطہ کیا۔ جموں و کشمیر پولیس نے فوری طور پر اس کے بھائی اعجاز احمد مغل سے رابطہ کیا اور راشد مغل کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ بعد میں انہیں پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) لے جایا گیا، جہاں انہوں نے لاش کی شناخت اپنے بھائی راشد مغل کے طور پر کی۔
اسی دوران پولیس نے قتل کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے ایک اور بھائی امتیاز احمد سمیت کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے۔ تفتیش کار اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ متوفی اس جگہ تک کیسے پہنچا جہاں یہ انکاؤنٹر ہوا تھا۔
اس دوران جموں و کشمیر اسمبلی میں ہفتہ کو گاندربل تصادم پر کافی ہنگامہ ہوا اور ارکان نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے ایک آواز میں۳۱مارچ کو ہوئے حالیہ گاندربل انکاؤنٹر کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان اسمبلی کو چھوڑ کر، دیگر تمام ارکان اسمبلی نے اس قتل کی مذمت کی اور ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے اس موضوع پر بیان دینے کا مطالبہ کیا۔
اس دوران اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایوان کو مطلع کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس معاملے میں پہلے ہی وقت کی حد کے اندر تحقیقات کے احکامات دے دیے ہیں۔










