ایجنسیز
نئی دہلی؍۳؍اپریل
انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی)، جو ملک کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے، نے جمعہ کے روز کہا کہ عالمی توانائی منڈیوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود بھارت میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فراہمی مستحکم اور کافی ہے، اور مزید کہا کہ گھریلو دستیابی کو بدستور اولین ترجیح حاصل ہے۔
کمپنی نے کہا کہ وہ روزانہ تقریباً۲۸لاکھ ایل پی جی سلنڈر فراہم کر رہی ہے، جو موجودہ کشیدگی سے پہلے کی معمول کی سطح کے مطابق ہے، اور گھروں تک بلا تعطل فراہمی جاری ہے۔
آئی او سی نے مزید کہا کہ تقریباً۸۷فیصد ری فل بکنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ ترسیل کو او ٹی پی پر مبنی نظام کے ذریعے مستند بنایا جا رہا ہے تاکہ درست تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا’’بھارت میں ایل پی جی کی فراہمی مستحکم، کافی اور قریبی نگرانی میں ہے، باوجود اس کے کہ عالمی توانائی منڈیوں پر جاری جغرافیائی سیاسی پیش رفتوں کا اثر پڑ رہا ہے۔ گھریلو ایل پی جی (فراہمی) کو بدستور اعلیٰ ترین ترجیح دی جا رہی ہے‘‘۔
اس نے کہا کہ روزانہ تقریباً۲۸لاکھ ایل پی جی سلنڈروں کی موجودہ ترسیل’’موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے آغاز سے قبل معمول کی ترسیلی سطح کے مطابق ہے‘‘۔
صارفین کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے ایس ایم ایس اور آئی وی آر ایس جیسے ڈیجیٹل طریقوں کا استعمال کریں۔ اس وقت تقریباً۸۷ فیصد بکنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے موصول ہو رہی ہیں۔ ترسیل ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈز (ڈی اے سی او ٹی پی) کے ذریعے کی جا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سلنڈر مطلوبہ صارفین تک پہنچیں۔
آئی او سی نے کہا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو فعال طور پر سن رہا ہے اور انہیں فوری طور پر حل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اس نے کہا’’کچھ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کی جانب سے بدعنوانیوں کی اطلاعات سوشل میڈیا اور صارفین کی شکایات کے ذریعے موصول ہوئی ہیں۔ بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے مختلف شعبہ جات پر مشتمل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جو ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس کی اچانک جانچ کر رہی ہیں‘‘۔
کمپنی نے کہا کہ اس نے بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے‘۷۵۰۰سے زائد معائنہ جات کیے گئے اور۱۴۱ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی، جن میں پانچ کو معطل بھی کیا گیا۔
ریاستی حکام اور دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر تقریباً۶۸ہزارچھاپے مارے گئے، جس کے نتیجے میں۸۵۵؍ایف آئی آر درج کی گئیں اور۴۸ہزارسے زائد سلنڈر ضبط کیے گئے۔
اس نے کہا’’۱۴۱؍ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جن میں۵کی معطلی شامل ہے‘‘۔’’انڈین آئل اور دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ملک بھر میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہیں تاکہ بدعنوانیوں کو روکا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جا سکے‘‘۔
اب تک تقریباً۶۸ہزارچھاپے مارے جا چکے ہیں‘۸۵۵؍ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں، اور۴۸ہزار سے زیادہ سلنڈر ضبط کیے جا چکے ہیں۔
آئی او سی نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں بکنگ یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں، یہ کہتے ہوئے کہ ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے، اور صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا’’انڈین آئل تمام انڈین صارفین کو یقین دلاتا ہے کہ فراہمی مناسب اور مستحکم ہے، اور ملک میں ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس پر قطار نہ لگائیں اور گھبراہٹ میں بکنگ یا سلنڈروں کا ذخیرہ نہ کریں۔ انہیں افواہوں پر یقین نہ کرنے اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی بھی تلقین کی جاتی ہے‘‘۔
کمپنی نے کہا کہ وہ ایل پی جی کی بلا رکاوٹ دستیابی، تقسیم میں شفافیت، اور بدعنوانیوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔










