’یہ بانہال کے تعلیمی اور سماجی و اقتصادی منظرنامے میں نئے دور کا آغاز ہے‘
ایجنسیز
جموں؍ یکم اپریل
ضلع رام بن، خصوصاً بانہال،گول حلقے کے عوام کے لیے ایک اہم پیش رفت میں’بانہال میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کا بل‘کے عنوان سے پرائیویٹ ممبر بل آج جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منظور کر لیا گیا۔
یہ بل ایم ایل اے بانہال سجاد شاہین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
اسے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے سجاد شاہین نے کہا کہ اس بل کی منظوری بانہال کے تعلیمی اور سماجی و اقتصادی منظرنامے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے اس علاقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
شاہین نے کہا’’تقریباً۹۰فیصد طلبہ گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے، جس کی وجہ کمزور معاشی حالات، وسائل کی کمی اور قریبی تعلیمی اداروں کا نہ ہونا ہے۔ یہ یونیورسٹی کیمپس ہمارے نوجوانوں کے لیے تعلیم، مواقع اور خودمختاری کے نئے دروازے کھولے گا‘‘۔
شاہین نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے میں تعاون اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم سکینہ ایتو کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تجویز پر مثبت غور کیا۔
انہوں نے کابینہ کے تمام وزراء اور اسمبلی کے دیگر اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے متفقہ طور پر اس اہم بل کی حمایت کی۔
این سی ممبر اسمبلی نے کہا’’یہ صرف ایک قانون سازی کی کامیابی نہیں بلکہ ضلع رام بن کے عوام کی مشترکہ فتح ہے۔ یہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم پسماندہ اور نظرانداز شدہ علاقوں کو تعلیم اور ترقی کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘‘۔
شاہین نے رام بن کے عوام، بالخصوص بانہال،گول حلقے کے باشندوں کو اس کامیابی پر مبارکباد دی اور یقین دہانی کرائی کہ اس منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے گی۔
بانہال میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں نمایاں اضافہ، ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے یہ علاقہ ایک ابھرتے ہوئے تعلیمی مرکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔










