جیسے جیسے خطہ اپریل میں داخل ہو رہا ہے، مارچ میں بارش کی کمی کا اثر مٹی کی نمی، زراعت اور پانی کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے:فیضان
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍ یکم اپریل
جموں و کشمیر میں مارچ کے مہینے میں کئی مغربی خلل (ویسٹرن ڈسٹربنسز) آنے کے باوجود۳۴فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے بدھ کو یہ معلومات دیں۔
حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں۱۰۰ء۷ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول کے۱۵۲ء۹ملی میٹر سے کم ہے، جس کی وجہ سے یہ مہینہ ’کمی والے‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، سری نگر میں معمول کے۱۱۵ء۰ ملی میٹر کے مقابلے میں۸۸ء۵ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو۲۳ فیصد کی کمی ہے، جبکہ سرمائی دارالحکومت جموں میں معمول کے۹۲ء۳ملی میٹر کے مقابلے میں۵۲ء۴ملی میٹر بارش ہوئی، جو۴۳ فیصد کی زیادہ شدید کمی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں سب سے زیادہ۷۴ فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد کولگام میں ۶۱یصد کمی رہی، جو سال کے اس وقت متوقع بارش سے کہیں کم ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ اننت ناگ (۴۷فیصد)، بڈگام(۴۴ فیصد)، بانڈی پورہ(۳۵فیصد)، پلوامہ(۲۵ فیصد) اور کپواڑہ (۲۰فیصد) میں بھی معمول کی سطح سے کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ جموں ڈویژن میں، کٹھوعہ (۶۲فیصد)، ادھم پور (۵۱فیصد)، ڈوڈہ(۵۲فیصد)، رامبن(۳۸فیصد)، کشتواڑ (۳۷ فیصد) اور ریاسی (۳۶فیصد) میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو پورے خطے میں بارش میں کمی کے وسیع تر نمونے کی عکاسی کرتی ہے، حکام نے کہا۔
تاہم، جموں خطے کا ضلع پونچھ سب سے زیادہ بارش والا ضلع رہا، جہاں۲۰۷ء۳ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول سے۲۶فیصد زیادہ ہے۔ سانبہ میں بھی معمول سے۳۹فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ چند اضلاع، بشمول بارہ مولہ (جہاں۱۳ فیصد کمی)، راجوری (۷فیصد کمی) اور گاندربل(۱۰فیصد زیادہ) معمول کے قریب رہے۔
آزاد موسمیاتی ماہر‘ فیضان عارف نے کہا کہ مغربی خلل کی تعدد ہمیشہ موثر بارش میں تبدیل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی نظام یا تو تیز رفتار تھے، یا نمی کی کمی تھی، یا مقامی ماحولیاتی حالات کے ساتھ ان کا مناسب ہم آہنگی نہیں تھی، جس سے ان کی بارش کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
عارف نے کہا’’جیسے جیسے خطہ اپریل میں داخل ہو رہا ہے، مارچ میں بارش کی کمی کا اثر مٹی کی نمی، زراعت اور پانی کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بڑی کمی دیکھنے کو ملی ہے‘‘۔
جموں و کشمیر نے اس سال پہلے ہی مسلسل ساتویں بارش کی کمی والا موسم سرما دیکھ لیا ہے، جس میں معمول سے۶۵ فیصد کی بڑی کمی رہی۔دسمبر سے فروری تک کا مرکزی موسم سرما کا دورانیہ معمول سے۶۵فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ ختم ہوا۔
خطے میں دسمبر،فروری کے دوران معمول کے۲۸۴ء۹ ملی میٹر کے مقابلے میں صرف۱۰۰ء۶ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
دسمبر میں معمول کے۵۹ء۴ملی میٹر کے مقابلے میں اصل بارش۱۳ء۰ملی میٹر رہی، جو۷۸فیصد کی کمی تھی، جبکہ جنوری میں معمول کے۹۵ء۱ ملی میٹر کے مقابلے میں اصل بارش۷۳ء۴ ملی میٹر رہی، جو۲۳فیصد کی کمی تھی۔
فروری کے مہینے میں معمول کے۱۳۰ء۴ملی میٹر کے مقابلے میں اصل بارش صرف۱۴ء۲ملی میٹر رہی، جو۸۹ فیصد کی کمی تھی۔
۲۰۱۹کے بعد سے، جموں و کشمیر میں موسم سرما میں بارش کی مسلسل کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔۲۰۱۹۔۲۰کے موسم سرما میں۲۰فیصد کمی رہی‘۲۰۲۰۔۲۱ میں۳۱فیصد،۲۰۲۱۔۲۲میں۸فیصد،۲۰۲۲۔۲۳میں۳۴فیصد،۲۰۲۳۔۲۴میں۵۴ فیصد، اور۲۰۲۴۔۲۵میں۴۵فیصد کمی رہی۔
تاہم، اس سے قبل۲۰۱۶۔۱۷کا موسم سرما۲۹ فیصد اضافی بارش والا رہا تھا، جبکہ۲۰۱۸۔۱۹میں۳۶فیصد اضافی اور۲۰۱۲۔۱۳ میں۱۴فیصد اضافی بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ (ایجنسیاں)










