تہران، 31 مارچ (یواین آئی )ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے حوالے سے ایران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی یا خاتمے کا کوئی بھی فیصلہ تہران کی شرائط اور ملکی مفادات کو مدِ نظر رکھ کر کیا جائے گا۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ خطاب میں ملکی سلامتی کے لیے ایرانی مسلح افواج کے کردار کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حفاظت کے لیے فورسز نے بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا”ہم تمام حالات کو مدِ نظر رکھ کر ہی جنگ کے خاتمے کا فیصلہ کریں گے۔ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ترجمانِ خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔واشنگٹن کے ساتھ صرف ثالثوں کے ذریعے ہی پیغام رسانی کا سلسلہ برقرار ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ اس وقت پاکستان کی قیادت میں اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک فعال ثالث کے طور پر ابھرا ہے، اور ایران ان سفارتی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے۔








