ہم نہیں جانتے ہیں اور بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ …….کہ ہم اسے کیا کہیں ‘ کیا نام دیں کہ اللہ میاں کی قسم ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے اور ……. اور اس لئے نہیں آرہا ہے کہ حکومت ……. جموںکشمیر کی حکومت چلا چلا کے کہہ رہی ہے کہ ……. کہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے ……. کسی بھی چیز کی نہیں ۔ رسوئی گیس کی اور نہ پیٹرول و ڈیزل کی …….یہ سب کچھ وافر مقدار میں دستیاب ہے ‘گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ……. وزیر بھی یہ کہہ رہے ہیں اور افسران بھی ……. لیکن ……. لیکن نہ جانے لوگ ان کی باتوں پر بھروسہ کیوں نہیں کررہے ہیں اور بالکل بھی نہیں کررہے ہیں ۔ رسوئی گیس کو حاصل کرنے کیلئے لمبی لمبی قطاریں ختم ہو نے کا نام نہیں لیں رہی ہیں ……. جہاں بھی آپ جایئے وہاں لوگ صبح سویرے رسوئی گیس کا سلنڈر حاصل کرنے کیلئے قطار در قطار میںا نتظار کرتے رہتے ہیں اور…….اور پیٹرول پمپوں کی تو آپ بات ہی نہ کیجئے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہو تی ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو تی ہے ۔ہم نے سمجھنے کی کوشش کی ‘ بہت زیادہ کوشش کی ‘ لیکن اللہ میاں کی قسم ہماری اس ناسمجھ ‘ سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے ……. بالکل بھی نہیں آرہا ہے …….کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے …….اگر سب کچھ وافر مقدار میں دستاب ہے تو پھر لوگوں اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں کیوں …….صاحب کچھ تو گڑ بڑ ہے اور ضرور ہے …….اور گڑ بڑ یہ ہے کہ لوگ حکومت پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں …….اس بات پر بھروسہ کہ ذخیرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ سب کچھ دستیاب ہے ……. لیکن لوگ پھر بھی ذخیرہ کررہے ہیں…….اور ہول سیل میں کررہے ہیں …….اتنی خیرہ اندوزی تو ایران میں بھی نہیں ہو رہی ہو گی جتنی یہاں ہو رہی ہے …….اور اس لئے ہو رہی ہے کیوںکہ ہمیں عادت ہے ……. گھر میں چیزیں ذخیرہ کرنے کی عادت اور …….اور اسی عادت کی وجہ سے اپنے کشمیر میں افرا تفری مچ گئی ہے …….غیر ضروری افرا تفری کہ یقین کیجئے ایسا کوئی گھر نہیں ہو گا اور ……. اور بالکل بھی نہیں ہو گا جس کے ہاں کم از کم دو سے تین رسوئی گیس کے سلنڈر نہیں ہوں اور ……. اور ان میں سے بیشتر بھریں ہوں گے لیکن ……. لیکن پھر بھی سورج کی پہلی کرن پھوٹنے کے ساتھ ہی یہ لمبی لمبی قطاروں میں خالی سلنڈر بھرنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہے نا؟




