ایجنسیز
سرینگر؍۲۶مارچ
جموں کشمیر پولیس کی اکنامک آفنس ونگ (ای او نڈبلیو) نے کووڈ۱۹کی وبا کے دوران طبی سامان کی خریداری میں ہونے والے کروڑوں روپے کے مبینہ گھپلے کے سلسلے میں جمعرات کو سرینگر اور بڈگام کے تین مختلف مقامات پر چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی رواں برس۲۳فروری کو درج کی گئی ایف آئی آر کے تناظر میں کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ کارروائی نئی دہلی کے نجف گڑھ کی ایک کمپنی ’ایم ایس سنجے ٹریڈنگ‘ کے مالک سنجے کمار ساہو کی شکایت پر عمل میں لائی گئی ہے۔ ای او ڈبلیو کے افسران نے بتایا کہ تلاشی مہم کا مقصد ڈیجیٹل ریکارڈ اور مالیاتی دستاویزات سمیت اہم شواہد اکٹھا کرنا تھا، جبکہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق نئی دہلی کے نجف گڑھ میں واقع ایم/ایس سنجے ٹریڈنگ کمپنی کے مالک سنجے کمار ساہو کی شکایت پر یہ کیس درج کیا گیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ پیر باغ، سری نگر کے رہائشی عماد مظفر مخدومی عرف عمران شاہ اور صنعت نگر کے رہائشی وقار احمد بھٹ نے کووڈ۱۹ وبا کے دوران طبی ساز و سامان فراہم کرنے کے نام پر کمپنی کے ساتھ دھوکہ کیا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے دھوکہ دہی کے ذریعے بڑی رقم حاصل کی، جس میں اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر دفتر سے موصول ہونے والی رقم بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر سے بھی کروڑوں روپے ہڑپنے کی کوشش کی۔
ملزمان نے خود کو سرکاری افسر ظاہر کر کے مختلف محکموں کے جعلی الاٹمنٹ آرڈر جاری کیے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے شکایت گزار کمپنی کے نام سے جعلی ای میل آئی ڈیز اور بینک اکاؤنٹس کھول کر ادائیگیوں کو اپنی طرف موڑ دیا۔
اکنامک آفنس ونگ کے حکام نے بتایا کہ تلاشی مہم کا مقصد ڈیجیٹل ریکارڈز اور مالیاتی دستاویزات سمیت اہم شواہد اکٹھے کرنا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد اور سرکاری محکموں کی مبینہ ملی بھگت کا پتہ لگایا جا سکے۔










