اب صاحب مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس کو کوئی مسئلہ ہے…….یہ مسئلہ ہے کہ اس کی نا سمجھ ‘ سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کیا کررہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہئے ‘ یہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔کانگریس خود کوئی تجویز دے‘ ایسا اس کی بنجر سوچ سے توقع نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ اس لئے یہ دائیں بائیں ہمسائیگی میں دیکھتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے ……. اور کیا نہیں ہو رہا ہے ‘اسی کو کاپی پیسٹ کرکے یہ مودی حکومت کو یہ کرنے اور وہ نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے ……. تجویز دیتی ہے ۔ ادھار کا مشورہ اور تجویز ۔اب ایران امریکہ جنگ کو ہی لیجئے ‘ یقیناً جنگ ‘ جنگ ہے اور اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ہے ……. ایسا کرنا اس لئے بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ جنگ امریکی صدر ٹرمپ لڑ رہے ہیں ……. اور یہ جناب دنیا کے سب سے غیر متوقع شخص اور حکمران ہیں …….ان کا اگلا قدم کیا ہو گا ‘ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ہے …….ایسے میں اس جنگ کو روکنے میں کسی طرح کی کوشش کرنا کسی بھی ملک کیلئے مشکل کیا نا ممکن ہے ……. ہمارے ملک کیلئے بھی ۔ لیکن کانگریس کا جاننا اور ماننا ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہے اور اس لئے ہے کیونکہ کانگریس نے سنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ میں ثالثی کی کوشش کررہا ہے اور……. اور وہ پاکستان کی اس کوشش کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دے رہی ہے ۔ اب صاحب آپ خود بتائے کہ آپ کانگریس کی اس سوچ کو کیا کہیں گے ؟بھئی پاکستان خود افغان طالبا ن کے ساتھ الجھ گیا …….اسے خود ثالث کی تلاش ہے ‘یہ کسی کی ثالثی کیا کرے گا وہ بھی ایران اور امریکہ میں ہو رہی جنگ میں ۔اور صاحب اگر مان بھی لیا جائے کہ ……. کہ پاکستان سچ میں ثالثی کررہا ہے یا ایسی کوئی کوشش‘ تو جناب کانگریس کیسے یہ مطلب و معنی اخذ ہے کہ یہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے ؟دنیا میں پاکستان سے بڑے اور طاقتور کئی ممالک ہیں ‘ جو ثالثی کی کوشش نہیں کررہے ہیں تو کیا صاحب ان ممالک کی خارجہ پالیسی بھی ناکام ہے ؟صاحب ایسا نہیں ہے ‘ ایسا نہیں ہو سکتا ہے …….پاکستان ‘ٹرمپ صاحب کے ایک اشارے پرناچنے لگتا ہے …….اچھل کود کرنے لگتا ہے ‘ بالکل بندر کی طرح جو مداری کی ڈگڈگی پر کلابازیاں کرتا رہتا ہے …….لیکن بھارت ایسا نہیں کرسکتا ہے ‘کیونکہ بھارت ،بھارت ہے ، پاکستان نہیں اور یہ ایک بات…….چھوٹی سی بات کانگریس کی نا سمجھ ، سمجھ میں نہیں آرہی ہے ……. بالکل بھی نہیں آ رہی ہے ۔ ہے نا؟




