سری نگر کی سرکاری زمین پر قبضوں کا سب کو علم ہے‘وحید پرّہ کا تنویر صادق پر وار
سرینگر؍۱۸مارچ
حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس (این سی)۲۷ مارچ سے جموں میں دوبارہ شروع ہونے والے بجٹ سیشن میں’لینڈ گرانٹ بل۲۰۲۵‘ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کا مقصد معاشی طور پر کمزور طبقات کے زمینی حقوق کو بحال کرنا ہے۔
پارٹی ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق نے اس قانون سازی کو۲۰۲۲میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لینے کے لیے’انتہائی اہم‘قرار دیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے غریبوں کے زمینی حقوق کو متاثر کیا۔
صادق نے نامہ نگاروں کو بتایا’’کئی بل ہیں۔ اس کے بعد کے سیشن میں سرکاری بلز اور پرائیویٹ ممبرز بلز ہوں گے۔ ان میں بہت اہم بل، لینڈ گرانٹ ایکٹ۲۰۲۵ہے‘‘۔
گزشتہ اسمبلی سیشن میں اکتوبر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے پیش کردہ زمین گرانٹ بل حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔
صادق نے مزید کہا کہ سیشن کے دوران دیگر ممبران کے کئی بل بھی زیر بحث آئیں گے۔ جب شراب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ذاتی طور پر پابندی کی حمایت کی اور کہا’’اگر آپ مجھ سے ذاتی طور پر پوچھیں تو شراب پر پابندی ہونی چاہیے‘‘۔
این سی ترجمان اعلیٰ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ تنازعہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی ، خاص طور پر ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں اور غریب کو ہوگا۔
ہندوستان کے سفارتی موقف کو اجاگر کرتے ہوئے صادق نے کہا کہ نئی دہلی مداخلت کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیوں کہ دونوں ممالک کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ اگر یہ کسی طرح اس جنگ کو ختم کرنے میں معاون ہو سکے تو اس صورت حال میں بڑی بات ہوگی ۔
ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما اور رکن اسمبلی پلوامہ وحید پرہ نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زمین عوام کا حق ہے اور سری نگر کی قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والوں کو سب جانتے ہیں۔
پرہ نے کہا کہ ریاستی زمین پر رہنے والوں کو مالکانہ حقوق دینے سے متعلق بل کو اسمبلی میں نیشنل کانفرنس نے مسترد کیا، اور اب وہ نیا بل لانے کی بات کر رہے ہیں، جسے دیکھا جائے گا۔ ’’اگر یہ واقعی عوام کے مفاد میں ہوا تو ہم اس کی حمایت کریں گے‘‘۔
پی ڈی پی ممبر اسمبلی نے کہا کہ اصل مسئلہ عوام، خاص طور پر غریب طبقے کو درپیش مشکلات ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ چراگاہوں، نزول اراضی یا جنگلاتی زمین پر برسوں سے رہنے والے افراد کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ بل’زمین مافیا‘ کے فائدے کے لیے ہے، اور کہا کہ جب جموں میں مکانات منہدم کیے گئے تو یہی لوگ ہمدردی ظاہر کرنے گئے، مگر اب تک ان مکانات کو باقاعدہ حیثیت نہیں دی گئی۔
پرہ نے مزید کہا کہ اسمبلی میں میر فیاض نے انہدامی کارروائیوں پر سوال اٹھایا تھا، اور بتایا کہ رواں برس تقریباً۱۵۰۰مکانات گرائے گئے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے عام لوگوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا ’زمین مافیا‘ کی بات کرنے والے دراصل بااثر اور طاقتور افراد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ’’سب کو معلوم ہے کہ لال چوک یا نہرو ہوٹل جیسی جائیدادوں کا مالک کون ہے—یہ طاقتور لوگوں کے پاس ہیں۔ جب غریبوں پر الزام لگایا جاتا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا اشارہ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ یا ان کے ساتھیوں کی طرف ہے‘‘؟
انہوں نے کہا کہ اگر الزام تراشی شروع کی جائے تو یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ زمین پر قبضے کہاں اور کس نے کیے۔گلمرگ، لال چوک یا گپکار روڈ میں‘لیکن ان کا مقصد الزام تراشی نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل ہے۔
پرہ نے زور دیا کہ اسمبلی میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہونا چاہیے تاکہ ریاستی زمین، چراگاہ، نزول یا جنگلاتی اراضی پر رہنے والے افراد—چاہے وہ جموں، کشمیر، چناب یا پیر پنجال سے تعلق رکھتے ہوں—کے ساتھ منصفانہ سلوک ہو۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ جو لوگ۱۵‘۲۰ یا ۲۵برس سے ایسی زمینوں پر رہ رہے ہیں اور اپنے چھوٹے مکانات تعمیر کر چکے ہیں، انہیں باقاعدہ قانونی حیثیت اور مالکانہ حقوق دیے جائیں۔
پرہ نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ بڑی اراضی کو قانونی حیثیت دینے کا نہیں بلکہ صرف چھوٹے رہائشی پلاٹس‘۱۰۔۲۰ یا۲۵مرلہ‘کو قانونی بنانے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’لینڈ ٹو دی لینڈ لیس‘اور ’ہاؤس ٹو ہاؤس‘جیسی اسکیمیں پہلے سے موجود ہیں، لیکن اگر پہلے سے موجود گھروں کو ہی مسمار کیا جاتا رہے تو ان اسکیموں کا کیا فائدہ؟
پی ڈی پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ انہدامی مہمات بند کی جائیں اور زبردستی بے دخلیوں کا سلسلہ روکا جائے، تاکہ لوگ اپنے گھروں میں سکون سے رہ سکیں۔










