رمضان المبارک کی۲۹ویں شب لاکھوں افراد نے تراویح اور ختم قرآن کی خصوصی دعا میں شرکت کی
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۸مارچ
حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی کی جانب سے ماہ رمضان کے دوران مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں قرآن کریم کے دس لاکھ نسخے فراہم کیے گئے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے زائرین حرمین کی سہولت کے لیے قرآن کریم کے نسخوں کی فراہمی کا انتظام کیا تاکہ رمضان المبارک میں زائرین کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اتھارٹی کا کہنا تھا مدینہ منورہ کے کنگ فہد قرآن کریم پرنٹنگ پریس کے تیارکردہ نسخے حرمین شریفین میں بروقت فراہم کیے گئے جو زائرین کی ضرورت کے مطابق تھے۔
قرآن کریم کے نسخوں کی فراہمی کے لیے ادارے کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تمام امور انجام دیے گئے۔
قرآن پاک کے نسخے مرحلہ وار گراؤنڈ یونٹس کو فراہم کیے گئے تاکہ وہ انہیں حرمین شریفین کے اندر مختلف مقامات پر موجود شیلفوں میں رکھ سکیں۔
حرمین شریفین میں موجود عملہ مستقل بنیادوں پر قرآن کریم کے نسخوں کی فراہمی کے عمل میں مصروف رہتا ہے۔
دریں اثنا حرمین شریفین میں رمضان المبارک کی۲۹ویں شب لاکھوں افراد نے تراویح اور ختم قرآن کی خصوصی دعا میں شرکت کی۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں زائرین صبح سے ہی پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔
ایس پی اے کے مطابق مسجد الحرام میں ختم قرآن کی دعا میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے۔
مسجد الحرام میں نماز کی امامت ڈاکٹر شیخ عبدالرحمن السدیس جبکہ مسجد نبوی میں صلاح البدیر نے کی۔مسجد الحرام کے اندرونی و بیرونی صحن، چھتیں اور نئی توسیعی مقامات کے علاوہ مسجد الحرام کی اطراف کی سڑکیں بھی نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں۔
ادارہ امور حرمین کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں۲۹ویں شب کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے جن میں سب سے اہم کراؤڈ کنٹرولنگ یونٹس کی تعیناتی تھی۔
مسجد الحرام کے چاروں سمتوں آنے والے راستوں پر زائرین کی آمد و رفت کو منظم رکھنے کے لیے سکاؤٹس اور فلاحی تنظیم کے رضاکاروں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔
معمر اور معذور افراد کی سہولت کے لیے ٹریکس مخصوص تھے جبکہ بیرونی صحنوں میں راہداریوں کو کھلا رکھنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔
مسجد الحرام کے بیرونی صحنوں میں نصب بڑی سکرینز سے زائرین کو مسجد کے اندر اژدحام کی صورتحال کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
انتظامیہ نے حرم شریف کے بیرونی صحنوں میں تراویح اور ختم قرآن کی دعا میں شرکت کرنے والوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات مختص کیے تھے تاکہ وہاں سکون سے جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جا سکے۔
۲۹ویں شب کے دیگر خصوصی انتظامات میں صفائی کے اضافی یونٹس کی تعیناتی بھی تھی۔ وضو خانوں میں بھی مستقل بنیادوں پر صفائی کے کارکن متعین تھے۔آب زم زم کی مستقل فراہمی کے لیے ’سقیا‘ کی ٹیمیں مصروف رہیں۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی چھتوں پر جانے والے راستوں کو بھی کھلا رکھا گیا جبکہ لفٹس اور اسکیلیٹرز کی بھی دیکھ بھال مستقبل بنیادوں پر جاری رہی۔
حرمین شریفین میں زائرین کی سہولت کے گراؤنڈ رہنما یونٹ کے اہلکار ’اسالنی‘ کے بینر کے ساتھ موجود رہے جنہیں سمارٹ ڈیوائس فراہم کی گئی تھی جس کے ذریعے کسی بھی زبان کا فوری ترجمہ کیا جاسکتا ہے۔
دریں اثنا سعودی عرب میں شوال کا چاند کہیں بھی نظر نہیں آیا، جس کے بعد حکام نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر جمعہ۲۰مارچ کو منائی جائے گی۔
حرمین شریفین کے ایک بیان کے مطابق مملکت بھر میں چاند دیکھنے کی کوششوں کے باوجود شوال۱۴۴۷ہجری کا ہلال نظر نہیں آیا۔اس کے نتیجے میں ماہِ رمضان۳۰دن مکمل کرے گا اور جمعہ کو عیدالفطر کا پہلا دن ہوگا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی عیدالفطر کی تاریخ سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا، جو کہ اسلامی تہواروں میں ایک اہم تہوار ہے اور ماہِ رمضان کے اختتام کی علامت ہے










