پولیس کی ڈیجیٹل شواہد رکھنے والوں سے تحقیقات میں تعاون کی اپیل
ایجنسیز
جموں؍۱۸مارچ
جموں کشمیر پولیس نے ایک عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن افراد سے معلومات، ویڈیوز اور تصاویر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جو اُس شادی کی تقریب میں موجود تھے جہاں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔
پولیس نے اتوار کے روز اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ بدھ کو جموں کے گریکٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا تھا۔
جموں،سانبہ،کٹھوعہ رینج ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق، ڈی آئی جی شیور کمار شرما نے تقریب میں موجود مہمانوں، عام لوگوں یا اس واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کے ڈیجیٹل شواہد رکھنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں۔
کمار نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے 9419150173، 9419131379 اور 9419186210 نمبر فراہم کیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق یہ واقعہ۱۱مارچ کو جموں کے گریکٹر کیلاش علاقے میں واقع رائل پارک بینکوئٹ ہال میں ایک شادی کے دوران پیش آیا۔ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن گنگیال میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی قائم کی گئی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی تعاون سے ایس آئی ٹی کو اہم شواہد اکٹھا کرنے اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) بھیم سین توتی نے اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس آئی ٹی کے قیام کا حکم دیا تھا، جو ڈی آئی جی جموں-سانبہ-کٹھوعہ رینج کی نگرانی میں کام کرے گی۔
گزشتہ بدھ کی رات فاروق عبداللہ اُس وقت بال بال بچ گئے جب ایک مسلح شخص نے رائل پارک بینکوئٹ ہال سے واپسی کے دوران اُن پر پیچھے سے فائرنگ کی۔
ملزم، جس کی شناخت۶۳ سالہ کمل سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، کو موقع پر ہی قابو کر کے گرفتار کر لیا گیا جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا ریوالور بھی اُس کے قبضے سے برآمد کر لیا گیا۔










