ایجنسیز
جموں؍۱۶مارچ
جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں شدید برفباری کے دوران ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔
اس کے علاوہ سنتھن ٹاپ کے بلند مقام پر برفباری میں پھنسے خواتین اور بچوں سمیت۲۳۰سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، حکام نے پیر کو یہ معلومات فراہم کیں۔
حکام کے مطابق خراب موسمی حالات کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر کشتواڑ اور ملحقہ ضلع ڈوڈہ میں میونسپل حدود سے باہر تمام تعلیمی اداروں کو پیر کے روز بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب بارش کے باعث کشتواڑ ضلع کے ڈانگدورو کے قریب ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس میں دو مزدور ملبے تلے دب گئے۔
حکام نے بتایا کہ بعد میں ایک مزدور مردہ حالت میں ملا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ایک اور واقعے میں حکام نے بتایا کہ پولیس، فوج اور سول انتظامیہ کی مشترکہ بچاؤ کارروائی کے دوران جموں خطے کے کشتواڑ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے ملانے والے سنتھن ٹاپ پر شدید برفباری کے درمیان۳۸گاڑیوں میں سوار۲۳۵مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر جاری بیان میں کہا’’۱۵مارچ کو اطلاع موصول ہوئی کہ شدید برفباری اور خراب موسمی حالات کے باعث سنتھن ٹاپ پر۲۳۵شہری پھنس گئے ہیں۔ اس پر وائٹ نائٹ کور کے دستوں کو فوری طور پر متحرک کیا گیا اور خطرناک راستوں اور مسلسل برفباری کے باوجود فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انتہائی خراب موسم اور برف سے بند سڑکوں کے باوجود ریسکیو ٹیمیں سنتھن ٹاپ تک پہنچیں اور پھنسے ہوئے افراد کو گرم کھانا، پینے کا پانی اور پناہ فراہم کی۔
مرمت اور بحالی کی ٹیموں نے پھنسے ہوئے گاڑیوں کو دوبارہ چلنے کے قابل بنایا، جبکہ جو گاڑیاں نکالی نہیں جا سکیں ان کے مسافروں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق طبی ٹیموں نے ضرورت مند افراد کو طبی امداد اور ضروری ادویات بھی فراہم کیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مشن کے دوران فوج، جموں و کشمیر پولیس اور نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے درمیان بہترین تال میل دیکھنے کو ملا، جو مشکل ترین حالات میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام کے مطابق کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر پنکج کمار شرما، ایس ایس پی نریش سنگھ اور۱۱راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔
اس دوران کشمیر کے بیشتر بالائی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری ہوئی جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث بعض مقامات پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، حکام نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع سیاحتی مقام گلمرگ، وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں دودھ پتھری اور وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں سونمرگ میں درمیانی درجے کی برفباری ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں مغل روڈ پر واقع پیر کی گلی، زوجیلا ایکسس، شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں گریز، شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں سدھنہ ٹاپ اور جنوبی کشمیر کے اننت ناگ کو جموں خطے کے کشتواڑ سے ملانے والے سنتھن ٹاپ سمیت بالائی علاقوں میں شدید برفباری ہوئی۔
حکام کے مطابق سادھنا ٹاپ پر۱۲؍انچ سے زیادہ تازہ برف ریکارڈ کی گئی جبکہ سنتھن ٹاپ پر تقریباً چھ انچ برف پڑی۔برفباری کے باعث وادی کی کئی اہم سڑکیں بند ہو گئی ہیں جن میں گریز،بانڈی پورہ سڑک، سنتھن،کشتواڑ روڈ اور مغل روڈ شامل ہیں، جو کشمیر وادی کو جموں خطے سے ملانے والا متبادل راستہ ہے۔
اسی طرح زوجیلا پاس پر برف جمع ہونے کے باعث سرینگر،لیہہ شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔ادھر وادی کے میدانی علاقوں، بشمول سری نگر، میں بارش کا سلسلہ جاری رہا جو پیر کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری تھا۔
سری نگر شہر میں گزشتہ۲۴گھنٹوں کے دوران۱۵ء۹ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
سیاحتی مقام پہلگام، جو سالانہ امرناتھ یاترا کے بیس کیمپوں میں سے ایک ہے، میں۱۵ء۷ملی میٹر بارش درج کی گئی۔اس خراب موسم کے باعث وادی بھر میں درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق اتوار کو سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت۱۱ء۵ ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے تقریباً چار ڈگری کم تھا۔
وادی کے دیگر موسمیاتی مراکز میں بھی درجہ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا، جس سے گزشتہ چند ہفتوں سے جاری غیر معمولی گرم دنوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
محکمہ موسمیات نے۲۰مارچ تک موسم کے غیر مستحکم رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
محکمہ کے مطابق پیر اور منگل کو چند مقامات پر بالائی علاقوں میں ہلکی بارش یا برفباری کا امکان ہے۔۱۸سے۲۰مارچ کے دوران عمومی طور پر موسم ابر آلود رہے گا اور کئی مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ۲۴؍۲۵مارچ کو بھی ایک اور مغربی سلسلے کے زیر اثر بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔محکمے نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ پیر اور۱۸سے۲۰مارچ کے دوران چند مقامات پر گرج چمک اور۴۰سے۵۰کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ۲۰مارچ تک زرعی سرگرمیاں معطل رکھیں۔










