ایجنسیز
سرینگر؍۱۶مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین ستیش شرما نے پیر کے روز کہا کہ حکومت کے پاس جموں و کشمیر میں تقریباً۲۱دن کے ایندھن اور ضروری اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ موجود ہے اور قلت سے بچنے کے لیے مٹی کے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ٹیولپ شو کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر شرما نے کہا کہ انتظامیہ سپلائی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہمارے پاس تقریباً۲۱ دن کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہے۔ کچھ لوگ بلیک مارکیٹنگ میں ملوث پائے گئے ہیں اور جو بھی قصوروار پایا گیا، چاہے وہ پٹرول پمپ ہو یا گیس ایجنسی، اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا‘‘۔
وزیر نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر پہلے مٹی کے تیل سے پاک خطہ بن چکا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں صارفین کو اضافی سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے دوبارہ مٹی کے تیل کی فراہمی شروع کی ہے۔
شرما نے کہا’’ہم مٹی کے تیل سے پاک ریاست تھے، لیکن اب ہم نے مٹی کے تیل کی تقسیم دوبارہ شروع کر دی ہے، جس سے لوگوں کو کافی سہارا ملے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ ضروری اشیاء کی دستیابی برقرار رہے اور عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیر نے کہا’’ہم عوام کے خادم ہیں۔ ملاوٹ یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، سخت کارروائی کا سامنا کرے گا‘‘۔
صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ امن کو ترجیح دی جانی چاہیے اور امید ظاہر کی کہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا’’ہم امن چاہتے ہیں۔ نفرت کو ہمیشہ محبت نے شکست دی ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ صورتحال جلد ختم ہو جائے گی‘‘۔ شرما نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت ترقی اور خطے کے سیاحتی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
کشمیر کو’بھارت کا سوئٹزرلینڈ‘قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد کی توقع ہے، خاص طور پر ٹیولپ گارڈن کے کھلنے کے بعد۔
شرما نے کہا’’ہمیں امید ہے کہ سیاح ریکارڈ تعداد میں آئیں گے اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہماری توجہ خوشحالی اور ترقی پر مرکوز ہے










