مسجد الحرام میں گزشتہ۲۰دنوں میں۵کروڑ۷۵لاکھ۹۵ہزار۴۰۱؍افراد نے پانچوں وقت کی نماز اور تراویح ادا کی
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۲مارچ
ماہ مقدس رمضان المبارک کے دو عشروں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد زائرین نے عمرہ ادا کیا ہے۔
رمضان المبارک کے دو عشرے گزر چکے ہیں اور تیسرا عشرہ جاری ہے۔ حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی نے دو عشروں میں زائرین عمرہ اور حرمین شریفین میں نمازیوں کی آمد سے متعلق اعداد وشمار جاری کیے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق رمضان المبارک کے دو عشروں میں عمرہ کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ۵۶لاکھ۵ہزار۸۶رہی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے داخلی دروازوں پر نصب حساس سینسرسسٹم کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا سے اعداد وشمار جاری کیے گئے ہیں۔
مسجد الحرام میں گزشتہ۲۰دنوں میں۵کروڑ۷۵لاکھ۹۵ہزار۴۰۱؍افراد نے پانچوں وقت کی نماز اور تراویح ادا کی جبکہ عمرہ کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ۵۶لاکھ۵ہزار۸۶رہی۔
مسجد نبوی میں۲کروڑ۱۱لاکھ۴۳ہزار۲۵۹؍افراد نے پانچ وقت کی نمازیں ادا کیں جبکہ روضہ شریفہ (ریاض الجنہ) میں نوافل ادا کرنے والوں کی تعداد۵لاکھ۷۹ہزار۱۹۱رہی۔
روضہ رسولؐ پر ایک کروڑ۷۱لاکھ۱۵ہزار۹۲۸؍افراد نے سلام عرض کرنے کے لیے حاضری دی۔
یاد رہے حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی عمرہ زائرین اور نمازیوں کی تعداد کو ٹریک کرنے کے لیے جدید سینسر ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہے۔
یہ نظام آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے، ہجوم کے بہاو کو منظم کرنے اور سائٹس کی نگرانی کرنے والے شریک اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں معاون ہے۔
رمضان المبارک کے دوران صدارت عامہ نے مسجد حرام میں نمازیوں اور متعمرین کی خدمت کے لیے۱۲ہزار ملازمین اور کارکن تعینات کیے ہیں۔ مسجد میں داخلے اور باہر جانے کے لیے۱۴خصوصی راستے بنائے کیے گئے ہیں۔ مسجد حرام کے تینوں توسیعی منصوبے بھی کھول دیے گئے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق عمر رسیدہ اور خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لیے مسجد حرام میں خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے۹ہزار برقی اور موبائل گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ ضیوف الرحمن کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔
حرمین انتظامیہ نے تربیت یافتہ انسانی وسائل اور مجتمع تجربے کو بروئے کار لا کر اس سال رمضان سیزن کے لئے ایک ایسا سبک رفتار آپریشنل پلان تیار کیا ہے جس میں کرونا وائرس وبا سے قبل متعمرین اور نمازیوں کی تعداد کو خاص طور پر ذہن میں رکھا گیا ہے۔










