حملہ آور پانچ روزہ پولیس ریمانڈ پر‘امت شاہ نے بھی فون کرکے خیریت دریافت کی، جانچ کا یقین دلایا
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۲مارچ
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ سے ٹیلی فون پر بات کی اور ان پر شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے حملے کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
حکام کے مطابق۸۸سالہ فاروق عبداللہ بدھ کی رات اس وقت بال بال بچ گئے جب جموں کے مضافات میں گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران ایک مسلح شخص نے پیچھے سے ان پر فائرنگ کر دی۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت۶۳سالہ کمل سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے، جو جموں کے پرانی منڈی علاقے کا رہائشی ہے۔ مبینہ طور پر اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ گزشتہ۲۰برسوں سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کے موقع کا انتظار کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق’’لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی‘‘۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی پی نلین پربھات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ سینئر افسران کو یہ بھی سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محفوظ شخصیات کی سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے۔
حکام کے مطابق پولیس نے ملزم کمل سنگھ جموال کے پس منظر اور روابط کی تفصیلی جانچ بھی شروع کر دی ہے۔
اس دوران یہاں کی ایک عدالت نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والے شخص کو پوچھ گچھ کے لیے پانچ دن کی پولیس تحویل میں دے دیا۔
۶۳ سالہ ملزم کمل سنگھ جموال کو سخت سکیورٹی کے درمیان شہر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے اس کی تحویل طلب کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے محرکات کا پتہ لگانے اور یہ جانچنے کے لیے مزید تفتیش ضروری ہے کہ آیا ملزم کے کسی تنظیم یا فرد کے ساتھ روابط تھے یا نہیں۔
عدالت نے دونوں فریقوں کی بات سننے کے بعد ملزم کو پانچ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کی اجازت دی اور پولیس کو ہدایت دی کہ ہر۲۴گھنٹے بعد ملزم کا مناسب طبی معائنہ بھی کرایا جائے۔
اس سے قبل پرانی منڈی کے رہائشی جموال کو اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کیا گیا۔
اس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں نے یہ کام کسی کے کہنے پر نہیں کیا۔ میں نے ہی ان پر فائرنگ کی ہے‘‘۔
بدھ کی رات فاروق عبداللہ اس وقت بال بال بچ گئے جب مبینہ طور پر ملزم نے جموں کے مضافات میں گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران پیچھے سے ان پر فائرنگ کر دی۔
دریں اثنا جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ‘ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعرات کے روز بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں فون کرکے ان پر ہوئے حملے کے بعد ان کی خیریت دریافت کی اور معاملے کی جانچ کا یقین دلایا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے فون کیا اور میری صحت کے بارے میں پوچھا۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہوں نے معاملے کی مناسب جانچ کا یقین دلایا ہے۔
این سی صدر نے واضح کیا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اسے جانتے تک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ’’میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے اور اپنی زندگی میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر پہلی بار میں نے اس کی تصویر دیکھی‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی سکیورٹی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’’میں تقریب سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنے پاس کچھ آواز سنائی دی، مجھے لگا شاید پٹاخے پھٹ رہے ہیں۔میں ان (سکیورٹی اہلکاروں) کا شکر گزار ہوں کہ میں محفوظ ہوں۔ وہ فوراً حرکت میں آئے، حملہ آور کو قابو میں کر لیا اور اس کی ریوالور چھین لی‘‘۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’میں نے زندگی میں کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی کسی کا برا کیا۔ اس کے ذہن میں ایسی کیا بات تھی، جس نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا، اس کا پتہ لگایا جانا چاہیے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘جس شادی کی تقریب میں کئی اہم شخصیات اور سیاسی رہنما موجود تھے، وہاں پولیس کی تعیناتی نہیں تھی اور اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا’’میں شادی میں گیا ہوا تھا جب دلہن آئی تو میں نے ان سے اجازت لی اور گھر کی طرف چلنے لگا، میں باہر نکل ہی رہا تھا کہ میں نے پٹاخے کی آواز سنی میں نے سوچا کہ شادی کی تقریب ہے تو کسی نے پٹاخہ چھوڑا ہوگا‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’مجھے جلدی گاڑی میں بٹھایا گیا اور پھر وہاں کہا گیا کہ کسی آدمی نے پستول سے دو گولیاں چلائیں لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کی طرف کیا اور بعد میں اسے پستول چھین لیا گیا‘‘۔
حملہ آور کے بارے میں پوچھے جانے پر سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’نہ میں اس شخص کو جانتا ہوں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا اور اس کی کیا رنجش ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’میں نے کسی کے ساتھ کبھی برا نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ اپنے حامی سے زیادہ اپنے مخالف کے مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔
ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا’’میں نے ہمیشہ لوگوں سے محبت کی ہے، کبھی کسی کے بارے میں دل میں نفرت نہیں پیدا کی ہے‘‘۔
سکیورٹی کوتاہی کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا’’سکیورٹی کوتاہی کہنا ایک بہت بڑا جملہ ہے، لیکن اس تقریب میں بڑے بڑے لوگ موجود تھے، پولیس کو خیال رکھنا چاہئے تھا، پولیس کا کوئی انتظام نہیں تھا‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’اللہ کا شکر ہے کہ میں بچ گیا، میری جو ذاتی سکیورٹی تھی اور جو وہاں دیگر وزرا اور ارکان اسمبلی کی سکیورٹی تھی، انہوں نے ہمت کی اور میں بچ گیا۔‘‘










