ایجنسیز
سرینگر؍۱۰مارچ
حکام کے مطابق جموں و کشمیر حکومت نے مبینہ ملک مخالف اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں محکمہ جل شکتی کے تین کارکنان کو ملازمت سے الگ کر دیا ہے۔
سرکاری احکامات کے مطابق شوکت احمد زرگر ولد نذیر احمد زرگر، ساکن اقبال محلہ بیجبہارہ ضلع اننت ناگ، جو بیجبہارہ میں ڈیلی ریٹڈ ویجر کے طور پر کام کر رہے تھے، کو فوری اثر سے ملازمت سے الگ کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر۵۳/۲۰۱۹درج ہے جس میں تعزیراتِ ریاست کی دفعہ۳۰۷، آرمز ایکٹ کی دفعات۷/۲۷ا؍ور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کی دفعات۱۶؍اور۱۸شامل ہیں۔ اس مقدمے میں چارج شیٹ پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے اور معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔
ایک اور حکم کے تحت حکومت نے لیاقت علی بھگوان ولد عزیز محمد بھگوان، ساکن بھگوان محلہ ہلر ضلع کشتواڑ، کو بھی ملازمت سے الگ کر دیا ہے۔ وہ نیڈ بیسڈ کیجول لیبرر کے طور پر تعینات تھے اور برور، کشتواڑ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
حکام کے مطابق ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر۲۳۰/۲۰۱۹ درج ہے جس میں یو اے پی اے کی متعلقہ دفعات اور۳۹شامل ہیں، اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چارج شیٹ بھی داخل کی جا چکی ہے۔
اسی طرح کوثر حسین بھگوان ولد محمد اکبر بھگوان، ساکن ہنجالا ضلع کشتواڑ، جو نیڈ بیسڈ کیژول لیبرر کے طور پر پی ایچ ای سب ڈویژن کشتواڑ کے تحت ہلر میں تعینات تھے، کو بھی ملازمت سے الگ کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف بھی ایف آئی آر نمبر۲۳۰/۲۰۱۹ کے تحت یو اے پی اے کی متعلقہ دفعات کے تحت الزامات ہیں اور یہ مقدمہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔
یہ احکامات محکمہ داخلہ کی جانب سے موصولہ حوالہ جات کے بعد انتظامی مفاد میں محکمہ جل شکتی نے جاری کیے ہیں










