نیویارک، 9 مارچ (یو این آئی) مشرقِ وسطیٰ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو جولائی2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایران میں جاری حالیہ جنگ نے عالمی توانائی کی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور جولائی 2022 کے بعد یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 29.21 فیصد اضافے کے ساتھ 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں 26.9 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 117.6 ڈالر ہو گئی ہے۔
اس سے قبل قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے پر ردِعمل دیتے ہوئے ترجمان ایرانی فوج نے دشمن ممالک کو براہِ راست وارننگ دی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ "اگر دشمن تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے زائد برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے، تو وہ اس ‘کھیل’ کو جاری رکھے۔ دشمن جب تک تیل کی ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے، تب تک جنگ جاری رکھے۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں ایرانی فوج کے بتائے ہوئے ہدف (200 ڈالر) تک بھی پہنچ سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور عالمی سپلائی چین مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔
ادھر برطانیہ کے پاس صرف دو دن سے بھی کم کا گیس کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے جس نے توانائی کے ایک بڑے بحران کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیشنل گیس کی جانب سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ کے پاس اس وقت 6700 GWh گیس ذخیرہ ہے جو کہ ملک کی صرف 1.5 دن کی طلب کے برابر ہے۔
اسی طرح ایل این جی بھی اتنی ہی مقدار میں موجود ہے لیکن یہ دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جنہوں نے ہفتوں کا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔
مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں کمی کے باعث برطانیہ اب پورے یورپ میں گیس کی سب سے زیادہ ہول سیل قیمتیں ادا کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے ماہرین کو خبردار کرنے پر مجبور کر دیا کہ برطانوی گھرانوں کو توانائی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم، حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ خلیج میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت رکنے سے برطانیہ کی گیس سپلائی متاثر نہیں ہوگی۔
حکومت ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حقیقت پر زور دے رہی ہے کہ 2025 میں برطانیہ کی گیس سپلائی کا صرف ایک فیصد قطر سے آیا تھا۔
نیشنل گیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی زیادہ تر گیس ناروے اور برطانیہ کے اپنے بحیرہ شمال سے آتی ہے۔








