نئی دہلی؍۵مارچ
حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مالی سال 2024-25 میں 6769.14 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی ہے جو تمام قومی سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ کانگریس تقریباً 918.28 کروڑ روپے کی آمدنی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
یہ بات ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
انتخابی کمیشن کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائے گئے گوشواروں کے تجزیے پر مبنی اس رپورٹ کے مطابق چھ قومی جماعتوں‘بی جے پی، کانگریس(آئی ایس سی) سی پی آئی (ایم)، عام آدمی پارٹی(اے اے پی)‘بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)اور نیشنل پیپلز پارٹی نے مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 7960.09 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی، جس میں بی جے پی کا حصہ 85.03 فیصد رہا۔
بی جے پی نے اپنی آمدنی کا تقریباً 55.76 فیصد یعنی 3774.58 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ کانگریس نے 1111.94 کروڑ روپے خرچ کیے جو اس کی مجموعی آمدنی سے 21.09 فیصد (193.66 کروڑ روپے) زیادہ ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے اس مدت کے دوران 172.60 کروڑ روپے کی کل آمدنی ظاہر کی، جبکہ اس کے اخراجات 173.86 کروڑ روپے رہے، جو اس کی آمدنی سے 1.26 کروڑ روپے (0.73 فیصد) زیادہ ہیں۔
بہوجن سماج پارٹی کی کل آمدنی 58.58 کروڑ روپے رہی، جبکہ اس کے سالانہ اخراجات 106.30 کروڑ روپے رہے۔ اس طرح پارٹی کے اخراجات اس کی آمدنی سے 47.71 کروڑ روپے (81.45 فیصد) زیادہ رہے۔
عام آدمی پارٹی نے 39.28 کروڑ روپے کی کل آمدنی ظاہر کی اور اس کے اخراجات 36.46 کروڑ روپے رہے، یعنی پارٹی نے اپنی مجموعی آمدنی کا 92.83 فیصد خرچ کیا۔ نیشنل پیپلز پارٹی نے 2.18 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی اور اس کے اخراجات 1.19 کروڑ روپے رہے، یعنی پارٹی نے اپنی آمدنی کا 54.72 فیصد خرچ کیا۔
ان چھ قومی جماعتوں نے پورے بھارت سے مجموعی طور پر 7960.09 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی۔
کانگریس 918.28 کروڑ روپے کی آمدنی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جو قومی جماعتوں کی مجموعی آمدنی کا 11.53 فیصد بنتی ہے، جبکہ نیشنل پیپلز پارٹی نے سب سے کم یعنی 2.18 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی جو مجموعی آمدنی کا صرف 0.02 فیصد ہے۔
سال 2023-24 اور 2024-25 کے درمیان بی جے پی کی آمدنی میں 55.95 فیصد (2428.6768 کروڑ روپے) کا اضافہ ہوا، جبکہ سی پی آئی (ایم) کی آمدنی میں معمولی اضافہ 2.96 فیصد (4.96 کروڑ روپے) ریکارڈ کیا گیا۔
اسی مدت کے دوران کانگریس کی آمدنی میں 25.05 فیصد (306.83 کروڑ روپے) کی کمی آئی، جبکہ بی ایس پی کی آمدنی میں 9.56 فیصد (6.19 کروڑ روپے) کی کمی درج کی گئی۔
عام آدمی پارٹی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جو 73.20 فیصد (16.60 کروڑ روپے) رہا۔مالی سال 2024-25 میں قومی جماعتوں نے مجموعی طور پر 7960.09 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی، جس میں سے 85.08 فیصد (6772.53 کروڑ روپے) عطیات اور چندوں سے حاصل ہوئے جبکہ 14.92 فیصد (1187.56 کروڑ روپے) دیگر ذرائع سے حاصل ہوئے۔
بی جے پی کو اپنی مجموعی آمدنی کا 90.48 فیصد یعنی 6124.85 کروڑ روپے عطیات کی صورت میں ملا، جبکہ عام آدمی پارٹی کو 99.85 فیصد (39.22 کروڑ روپے) اور نیشنل پیپلز پارٹی کو 97.74 فیصد (2.14 کروڑ روپے) آمدنی چندوں کے ذریعے حاصل ہوئی۔
اس کے برعکس بہوجن سماج پارٹی نے اپنی پوری آمدنی یعنی 58.58 کروڑ روپے دیگر ذرائع سے ظاہر کی اور اسے کوئی عطیہ موصول نہیں ہوا۔ کانگریس کو 56.86 فیصد (522.13 کروڑ روپے) آمدنی عطیات سے جبکہ 43.14 فیصد (396.15 کروڑ روپے) دیگر ذرائع سے حاصل ہوئی، جبکہ سی پی آئی (ایم) کو 48.77 فیصد (84.17 کروڑ روپے) عطیات سے اور 51.23 فیصد (88.42 کروڑ روپے) دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل ہوئی۔
قومی جماعتوں میں سب سے زیادہ عطیات حاصل کرنے والی جماعتوں میں بی جے پی (6124.85 کروڑ روپے)، کانگریس (522.13 کروڑ روپے)، سی پی آئی (ایم) (84.17 کروڑ روپے)، عام آدمی پارٹی (39.22 کروڑ روپے) اور نیشنل پیپلز پارٹی (2.14 کروڑ روپے) شامل ہیں۔
کانگریس کی جانب سے کوپن جاری کر کے جمع کی گئی رقم 350.12 کروڑ روپے رہی جو 2024-25 کے دوران اس کی کل آمدنی کا 38.12 فیصد بنتی ہے۔رپورٹ کے مطابق قومی سیاسی جماعتوں کے اخراجات میں سب سے زیادہ حصہ انتخابی اخراجات اور انتظامی و عمومی اخراجات کا ہوتا ہے۔
بی جے پی نے انتخابی و عمومی تشہیر پر 3335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ انتظامی اخراجات پر 323.05 کروڑ روپے صرف کیے۔
کانگریس نے انتخابی اخراجات پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ انتظامی اور عمومی اخراجات کی مد میں تقریباً 159.68 کروڑ روپے خرچ کیے۔
سی پی آئی (ایم) نے انتظامی اور عمومی اخراجات پر 78.11 کروڑ روپے جبکہ ملازمین کے اخراجات پر 51.03 کروڑ روپے خرچ کیے۔ (ایجنسیاں)










