نئی دہلی، 26 فروری (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعرات کے روز ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پر ملک کے مفادات سے کئی بار سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کانگریس نیز راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔
پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں راہل گاندھی پر ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کی جانب سے استعمال شدہ لفظ ’سمجھوتہ ‘ درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل ملک کو کمزور کرنے والے فیصلے نہرو کے دورِ حکومت میں کیے گئے تھے جن کا خمیازہ آج بھی ملک بھگت رہا ہے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم نہرو کے دور میں کیے گئے بعض فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں قومی سلامتی کے تئیں کوتاہی برتی گئی۔ انہوں نے 1954 کے پنچ شیل معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے تبت پر چین کے کنٹرول کو تسلیم کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ اکسائی چن میں چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر کی اطلاعات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
انہوں نے 1962 کی ہند۔چین جنگ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس وقت فوج کو مناسب تیاری کے بغیر سرحد پر بھیج دیا گیا تھا۔
سمبت پاترا نے راہل گاندھی پر بار بار تنقید کرتے ہوئے ملک کی شبیہ کو خراب کرنے اور غلط بیانی کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔










