سرینگر: نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے جمعرات کو کہا کہ جموں وکشمیر میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں اور ڈل جھیل کے حسین نظاروں نے انہیں بے حد متاثر کیا۔
نائب صدر،جو کشمیر یونیورسٹی کی۲۱ویں تقسیم اسناد تقریب میں شرکت کے لیے گذشتہ شام سری نگر پہنچے،نے جمعرات کی صبح جھیل ڈل کی سیر کی اور اس کے دلکش قدرتی نظاروں سے محظوظ ہوئے۔
رادھا کرشنن نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا’’میں نے آج صبح سری نگر میں جھیل ڈل کی سیر کے دوران اس کے لا زوال حسن،شفاف پانی اور دلکش قدرتی مناظر کا تجربہ کیا‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’میں جموں وکشمیر میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں، بشمول بہتر بنیادی ڈھانچے اور بہتر رابطہ سہولیات سے بے حد متاثر ہوا‘‘۔
انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نائب صدر نے کہا’’میں انتظامیہ کی ان کوششوں کو سراہتا ہوں جو ماحولیاتی سیاحت کے فروغ، قدرتی ورثے کے تحفظ اور مقامی برادریوں کے لئے روز گار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں‘‘۔
نائب صدر نے کہا’’ان اقدامات نے نہ صرف سیاحت کو فروغ دیا ہے بلکہ جموں وکشمیر میں امن، تری اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔‘‘
اس دوران رادھا کرشنن کے پہلے سرکاری دورہ کشمیر کے دوران وادی میں بے مثال اور انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات نافذ کئے گئے، جن کے تحت جھیل ڈل، کشمیر یونیورسٹی اور سرینگر کے اہم تجارتی و رہائشی علاقوں کو ہائی سیکورٹی زون میں تبدیل کر دیا گیا۔
انتظامی و سیکورٹی حکام کے مطابق یہ گزشتہ برسوں میں کسی بھی وی وی آئی پی دورے کے لیے کیے گئے سب سے سخت حفاظتی اقدامات تھے۔
ڈل جھیل میں شکارا سواری کے پیش نظر صبح سویرے ہی جھیل کے کناروں، واٹر چینلز اور بوٹ اسٹیندز پر خصوصی بریگیڈ تعینات کی گئی۔ واٹر ونگ نے گشت میں اضافہ کیا جبکہ جھیل کے اوپر جدید کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی مسلسل کی جاتی رہی۔
ادھر کشمیر یونیورسٹی اور اس کے اردگرد کے علاقوں کو مکمل طور پر فوجی چھاؤنی کا منظر دے دیا گیا تھا۔ داخلی و خارجی راستوں پر سی آر پی ایف، ایس او جی اور پولیس کے خصوصی دستے تعینات تھے، جبکہ ہر گاڑی اور ہر فرد کی سخت چیکنگ لازمی قرار دی گئی۔ کنووکیشن ہال کے آس پاس سڑکیں سیل رکھی گئیں اور ہوسٹل و فیکلٹی بلاکس کے باہر بھی حفاظتی حصار قائم کیا گیا۔
شہری علاقوں، خصوصاً نشاط، درگاہ، گپکار، لال چوک اور یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کے لیے خصوصی پلان نافذ کیا گیا۔ بعض مقامات پر چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک محدود رکھا گیا جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری دن بھر تعینات رہی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ملٹی لیئر سیکورٹی یقینی بنائی گئی تاکہ تمام پروگرام بنا کسی خلل کے مکمل ہو سکیں۔
حکام کے مطابق نائب صدر کے دورے کے دوران امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی اور سیکورٹی گرڈ نے کہی بھی کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادی میں وی وی آئی پی سکیورٹی پروٹوکول کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ بڑے پروگرام محفوظ ماحول میں منعقد ہو سکیں۔










