سرینگر: جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کا نام تبدیل کرنے کی مانگ کو قبول کرے۔
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب مرکزی کابینہ نے منگل کے روز ریاست کیرالہ کا نام ’کیرلم‘ کیے جانے کی تجویز کو منظوری دی، جبکہ مغربی بنگال کی ایسی ہی تجویز برسوں سے زیرِ التوا پڑی ہوئی ہے۔
سری نگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا،’اگر کیرالہ کے نام کی تبدیلی کو منظوری دی گئی ہے تو مغربی بنگال اسمبلی کی منشا کا بھی احترام ہونا چاہیے۔ اگر وہاں کی حکومت اور عوام یہ چاہتے ہیں تو مرکز کو بھی اس مطالبے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مستقبل میں اگر جموں و کشمیر اسمبلی میں ایسا کوئی بل لایا گیا تو مرکز کو اس پر بھی وہی توجہ دینی ہوگی جو دیگر ریاستوں کو دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ کیرالہ کی تجویز کو منظوری ملتے ہی وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بینرجی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ریاست کی مانگ ایک طویل عرصے سے مرکزی وزارتِ داخلہ کے پاس پڑی ہے، لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
عمر عبداللہ نے اسی پس منظر میں کہا کہ مرکز کو تمام ریاستوں کو یکساں احترام اور اہمیت دینی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کے اپنے پہلے دورۂ کشمیر پر گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ نائب صدر جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کی۲۱ویں کانووکیشن میں شرکت کریں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا:’طلبہ بے حد پُرجوش ہیں۔ بہت سے طلبہ اپنی ڈگریاں اور میڈلز اُن کے ہاتھوں وصول کرنے کے منتظر ہیں۔ ہم نائب صدر کا دل سے استقبال کرتے ہیں۔‘
اس سے قبل عمر عبداللہ نے رعناواری چوک میں ’بابُ السلطان العارفین‘ نامی خطاطی گیٹ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کے اُن اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد شہر کے قدیم علاقوں کی خوبصورتی، ثقافتی وراثت کی بحالی اور سیاحتی کشش میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے نہ صرف شہر کی شناخت کو مضبوط کریں گے بلکہ ڈاؤن ٹاؤن کے معاشی حالات کو بھی بہتر بنائیں گے، کیونکہ خوبصورت اور تاریخی مقامات سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کو ریاستوں کے جائز مطالبات پر غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے غور کرنا چاہیے، تاکہ وفاقی ڈھانچہ مضبوط ہو اور ریاستوں کا اعتماد بحال رہے۔










