سرینگر: وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے منگل کو ایران میں زیرِ تعلیم جموں و کشمیر کے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کی ایڈوائزری پر عمل کریں اور جب تک تجارتی پروازیں جاری ہیں، وطن واپس لوٹ آئیں۔
ہندوستانی سفارت خانے نے اپنی تازہ ایڈوائزری میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ’دستیاب ذرائع نقل و حمل، بشمول تجارتی پروازوں کے ذریعے ایران چھوڑ دیں‘‘۔
یہ ایڈوائزری ایران میں ہفتہ کے روز حکومت مخالف مظاہروں کے دوران جنوری میں ہلاک ہونے والوں کی چہلم کے موقع پر ہونے والے احتجاج کے بعد جاری کی گئی۔
گاندربل ضلع میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں ان سے کہوں گا کہ براہِ کرم حکومت ہند کی اس ایڈوائزری کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ بصورتِ دیگر یہ ہمارے لیے ایک مسئلہ بن جاتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فی الحال ایران میں صورتِ حال مستحکم ہے، ہوائی اڈے کھلے ہیں اور تجارتی پروازیں جاری ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں تمام طلبہ اور وہاں کام کرنے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ایڈوائزری کو نظرانداز نہ کریں، اپنے ٹکٹ بُک کریں اور ایران چھوڑ دیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’وزارتِ خارجہ نے یہ ایڈوائزری بلاوجہ جاری نہیں کی۔ خدا نہ کرے اگر صورتِ حال بگڑتی ہے تو پھر انہیں وہاں سے نکالنا ہمارے لیے ایک مسئلہ ہوگا۔ اس لیے میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ایڈوائزری کو سنجیدگی سے لیں اور وہاں سے واپس آ جائیں‘‘۔
پنجاب کی سی ٹی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور بے دخلی کی دھمکیوں سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پنجاب کے اپنے ہم منصب کے ساتھ اٹھائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے اس بارے میں بات کروں گا۔ ممکن ہے یہ یونیورسٹی کی اپنی کارروائی ہو، کیونکہ پنجاب حکومت نے ہمیشہ جموں و کشمیر کا ساتھ دیا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پنجاب حکومت ایسا ہونے نہیں دے گی اور یونیورسٹی سے اس بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ اگر کسی کشمیری طالب علم کو ایسی مشکلات درپیش ہیں تو ان کا ازالہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے گاندربل، جو اسمبلی میں ان کا حلقہ انتخاب ہے، میں۸۴ء۴۱کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔
ان منصوبوں میں گاندربل قصبے کی خوبصورتی اور ترقی کے لیے۷ء۷۰کروڑ روپے، سڑکوں کی توسیع کے لیے۷ء۵۰کروڑ روپے، ضلع اسپتال میں سی ٹی اسکین مشین کی تنصیب کے لیے۸ء۴۰کروڑ روپے، اور متعدد آبی سپلائی اسکیمیں شامل ہیں۔ ان اقدامات سے وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں صحت، صفائی، پانی کی فراہمی، سڑکوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملے گی۔










