سرینگر: جموں و کشمیر میں ریل رابطہ کو بڑی تقویت دیتے ہوئے جموں اور سری نگر کے درمیان براہِ راست ٹرین سروس یکم مارچ سے شروع کی جا رہی ہے۔ حکام نے منگل کے روز اس کی تصدیق کی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وندے بھارت ایکسپریس سری نگرجموں روٹ پر سات اسٹیشنوں پر قیام کرے گی، جس سے مسافروں کو براہِ راست اور تیز رفتار سفری سہولت میسر آئے گی۔
مسافروں کی متوقع زیادہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرین کی ریک ترتیب میں تبدیلی کی گئی ہے۔ کوچز کی تعداد ابتدائی طور پر مجوزہ آٹھ کے بجائے بڑھا کر۲۰ کر دی گئی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
جموں ڈویژن، ناردرن ریلوے کے سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اُچِت سنگھل نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے سروس کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں آمد و رفت، سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس توسیع کے بعد مسافر اب جموں اور سرینگر کے درمیان پانچ گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سفر کر سکتے ہیں، جو سڑک کے ذریعے سفر کے مقابلے میں وقت کی نمایاں بچت ہے۔ اس خطے میں سڑک رابطہ، خصوصاً جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر، اکثر لینڈ سلائیڈنگ، شدید برف باری اور خراب موسمی حالات کے باعث متاثر رہتا ہے۔ وندے بھارت خدمات کی توسیع ایک قابلِ اعتماد، ہر موسم میں دستیاب متبادل فراہم کرتی ہے جو حفاظت، آرام اور وقت کی پابندی کو یقینی بناتی ہے۔
سیمی ہائی اسپیڈ وندے بھارت ٹرینیں جدید مسافر سہولیات، بہتر حفاظتی خصوصیات اور آرام دہ سفر کی سہولت سے آراستہ ہیں، جس سے سفر نہ صرف تیز تر بلکہ زیادہ سہل اور آرام دہ بھی بن جاتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ توسیع مقامی باشندوں کو بڑا فائدہ پہنچائے گی، سیاحت کو فروغ دے گی، تجارت کو آسان بنائے گی اور خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
وادی کے عام لوگوں نے اس فیصلے کو ’ایک دیرینہ مطالبے کی تکمیل‘ قرار دیا ہے۔
کشمیر یونیورسٹی کے ایک طالب علم بلال احمد، جو اکثر جموں سفر کرتا ہے، نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’ہمیں ہمیشہ گھنٹوں کا انتظار اور بسوں کی تھکا دینے والی مسافت جھیلنی پڑتی تھی۔ براہِ راست ٹرین ہمارے لیے واقعی راحت ہے—تیز بھی، آرام دہ بھی، اور محفوظ بھی۔‘
اسی طرح بارہمولہ کے ایک تاجر محمد شفیع نے کہا:’کاروبار کے لیے ہمیں ہر دوسرے ہفتے جموں جانا ہوتا ہے۔ براہِ راست ٹرین سے وقت بھی بچے گا اور سامان کے ساتھ سفر کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔‘
جموں میں رہنے والی نرگس عباسی، جن کا خاندان سری نگر میں ہے، نے اسے ’دلوں کو جوڑنے‘ والی پیش رفت قرار دیا۔’ سفر مختصر ہو جائے گا، ملاقاتیں بڑھیں گی، اور گھر آنا جانا بہت سہل ہو جائے گا۔‘
ماہرین کے مطابق وندے بھارت کی یہ توسیع جموں و کشمیر میں ریل رابطے کے بڑے منصوبے یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کی پیش رفت سے بھی جڑی ہوئی ہے، جس کے بعد پوری وادی کو ملک کے باقی ریلوے نیٹ ورک سے براہِ راست منسلک ہونا ہے۔
ریلوے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یکم مارچ سے شروع ہونے والی یہ نئی براہِ راست سروس نہ صرف عام مسافروں بلکہ سیاحوں کے لیے بھی نئی سہولت ثابت ہوگی اور خطے میں نقل و حمل کا معیار بہتر بنائے گی۔
ادھم پور،سرینگر،بارہمولہ ریل لنک منصوبہ۶جون۲۰۲۵کو وزیرِ اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام وقف کیا تھا۔ اس کے بعد مقامی باشندوں، تاجروں، طلبہ اور سیاحوں کی جانب سے جموں کو براہِ راست سرینگر سے سیمی ہائی اسپیڈ وندے بھارت سروس کے ذریعے جوڑنے کا مضبوط اور مسلسل مطالبہ سامنے آیا۔
یہ سنگِ میل حکومتِ ہند اور انڈین ریلوے کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔










