سرینگر: نائب صدرہند سی پی رادھا کرشنن کے پہلے دورے کشمیر سے قبل سیکورٹی اداروں نے پوری وادی، خصوصاً سری نگر اور اس کے گردونواح میں، انتہائی سخت حفاظتی انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔
۲۶فروری کو کشمیر یونیورسٹی میں ہونے والے۲۱ویں کنووکیشن میں نائب صدر کی شمولیت کے پیش نظر انتظامیہ نے ایک جامع، کثیر سطحی سکیورٹی گرڈ ترتیب دیا ہے، جس کے تحت شہر کے بیشتر حساس علاقوں کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یونیورسٹی کے حضرت بل کیمپس کے اردگرد سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں ایڈوانس کیمروں، ناکہ بندیوں، چیکنگ اور فلیگ مارچز شامل ہیں۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی چیک پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں گاڑیوں اور مسافروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے بتایا کہ اس بار حفاظتی انتظامات انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، کیونکہ یہ نائب صدر کا پہلا دورہ ہے اور کسی بھی سیکورٹی چیلنج کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وادی کے مختلف اضلاع میں بھی سیکیورٹی کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے، جبکہ اہم تنصیبات، سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کرنے اور زمینی سطح پر اطلاعات جمع کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، سیکورٹی ادارے گزشتہ کئی دنوں سے وادی میں اچانک چیکنگ، سرچ آپریشنز، اور کسی بھی صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے کوئیک ری ایکشن ٹیموں کی تعیناتی جیسے اقدامات پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ شہر بھر میں سی سی ٹی وی سرولنس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے پولیس کنٹرول روم میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں اس دورے کے حوالے سے پوری سیکیورٹی میکانزم کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام حساس علاقوں کی نشاندہی کی گئی اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ ایس او پیز کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔
بردی نے اس بات پر زور دیا کہ شہری علاقوں میں رات اور دن کی پٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے اور یونیورسٹی کے اطراف موجود حساس پوائنٹس پر نگرانی مزید سخت کی جائے۔
دریں اثنا، کشمیر یونیورسٹی میں۲۱واں کنووکیشن ایک بڑے تعلیمی اور ادبی ایونٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس اہم تقریب میں۵۹ہزار۵۵۸ ڈگریاں تقسیم کی جائیں گی، جن میں۴۴ہزار۹۱۰؍انڈر گریجویٹ‘۱۳ہزار۵۴۵پوسٹ گریجویٹ‘۴۶۱ ایم ڈی/ایم ایس‘۴ا؍یم سی ایچ‘۱۸ ؍ایم فل اور۶۲۰پی ایچ ڈی ڈگریاں شامل ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کشمیر یونیورسٹی کی تاریخ کے بڑے کنووکیشنز میں سے ایک ہے۔
نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کنووکیشن میں چیف گیسٹ کے طور پر شرکت کریں گے، جہاں وہ اہم خطاب بھی کریں گے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، جو کہ کشمیر یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، تقریب کی صدارت کریں گے جبکہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بطور گیسٹ آف آنر اس میں شرکت کریں گے۔
ادھردورے کشمیر کے پیش نظر ٹریفک پولیس سرینگر نے۲۶ فروری کے لیے ایک جامع ٹریفک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہر کے متعدد اہم راستوں پر عارضی پابندیوں اور ٹریفک کی ازسرِنو ترتیب کا اعلان کیا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق بڈیاری چوک اور گپکار کے راستے نشاط، شالیمار، ہارون اور ملحقہ علاقوں کی طرف کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح رام منشی باغ سے گرینڈ پیلس کی جانب ٹریفک مکمل طور پر بند رہے گا اور گاڑیوں کو ڈل گیٹ، سنگرمال اور اخوان چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
حکام نے واضح کیا کہ ڈل گیٹ سے خانیار، رعنا واری، سید کدل اور حضرت بل تک جانے والا پورا روٹ مکمل طور پر بند رہے گا اور اس دوران کسی بھی قسم کی گاڑی کو آنے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نشاط، شالیمار، ہارون، گاندربل اور قریبی علاقوں سے لال چوک کا سفر کرنے والے مسافروں کو برزہامہ راستہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، جو چندپورا، تیل بل، ذکورہ، مل باغ، الٰہی باغ اور۹۰فٹ روڈ سے گزرتا ہے۔ اسی روٹ کو واپسی کے لیے بھی استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈل گیٹ، لال چوک اور ملحقہ علاقوں سے نشاط، شالیمار اور ہارون جانے والے مسافروں کے لیے سنگرمال، اخوان چوک، نوہٹہ‘۹۰فٹ اور مل باغ روڈ استعمال کرنے کی ہدایت ہے۔
ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کے لیے بھی مخصوص روٹ جاری کیا گیا ہے۔ نائب صدر کی آمد کے دوران ہارون، نشاط اور شالیمار سے ہوائی اڈے کی طرف جانے والی گاڑیوں کو برزہ ہامہ—چندپورا—تیل بل—ذکورہ—مل باغ—الٰہی باغ۹۰فٹ روڈ کے ذریعے سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح پانتھ چوک اور پاندریٹھن سے آر ایم باغ کی طرف جانے والے گاڑیوں کو پیکس، نوگام اور بائی پاس روٹ اختیار کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس نے کہا کہ طبی ایمرجنسی کے معاملات میں جانچ کے بعد فوری سہولت فراہم کی جائے گی۔عوام کسی بھی مدد کے لیے ٹریفک پولیس کنٹرول روم سری نگر کے ہیلپ لائن نمبر۱۰۳پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔










