تہران /23فروری //
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کرنے والے سٹیو وٹکوف نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکہ کے تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واشنگٹن کے مطالبات کیوں نہیں مانے۔
وٹکوف نے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ حیران ہیں کہ تمام تر دباؤ اور خطے میں ہماری بحری قوت کے حجم کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور آ کر صاف صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بس ہم اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتے؟
اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کیوں نہیں جھکتے، کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔‘
اس دوران عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے۔
عمان دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کرتا آیا ہے۔ عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ’ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے تھے۔
17 فروری کو مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیادی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘
انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا تھا کہ واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔‘
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔‘









