سرینگر: حکام کے مطابق کشمیر اس وقت غیر معمولی طور پر گرم موسمِ سرما کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی علاقوں میں دن کا درجۂ حرارت معمول سے۹سے۱۱ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث رواں فروری گزشتہ تقریباً ایک دہائی کا گرم ترین مہینہ بنتا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند روز سے تیز دھوپ کے باعث دن کا درجۂ حرارت مسلسل موسمی اوسط سے کئی ڈگری زیادہ بنا ہوا ہے۔
جمعرات کو وادی کے متعدد حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے۹تا۱۱ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ فروری میں۲۰۱۶کے بعد سب سے زیادہ درجۂ حرارت ہے۔۲۴فروری۲۰۱۶ کو سرینگر میں 20.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
گلمرگ میں دن کا درجۂ حرارت بڑھ کر 11.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو معمول سے 9.9 ڈگری زیادہ ہے۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں یہ اب تک کا بلند ترین فروری درجۂ حرارت قرار دیا جا رہا ہے، جو۱۱ فروری۱۹۹۳کے ریکارڈ کے برابر ہے۔
وادی کے دیگر موسمی مراکز پر بھی دن کا درجۂ حرارت معمول سے زیادہ درج کیا گیا ہے۔
آزاد موسمی تجزیہ کار فیضان عارف نے کہا کہ وادی میں گرمی کی یہ لہر ابھی ابتدا میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’چند درجۂ حرارت کے ریکارڈ پہلے ہی ٹوٹ چکے ہیں، لیکن یہ سلسلے کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید ریکارڈ متاثر ہو سکتے ہیں‘‘۔
عارف نے کہا کہ رواں سال کا فروری جموں و کشمیر کے گرم ترین فروری مہینوں میں شمار ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق فروری کے باقی ایام میں موسم زیادہ تر خشک رہنے کا امکان ہے کیونکہ ماہ کے اختتام تک کسی بڑی بارش یا برفباری کی پیش گوئی نہیں کی گئی۔ کشمیر میں اس وقت بارش کی۵۶فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ جموں میں یہ کمی۳۵فیصد ہے۔
محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق۲۷؍اور۲۸فروری کو چند مقامات پر ہلکی بارش یا برفباری کا امکان ہے، تاہم مجموعی طور پر ماہ کے اختتام تک موسم خشک رہنے کی توقع ہے۔ آئندہ سات دنوں کے دوران کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس دوران محکمہ موسمیات کے ناظم ‘ڈاکٹر مختار احمدنے جمعہ کو کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں فروری کے اختتام تک کسی بڑی بارش یا برفباری کی پیش گوئی نہیں ہے۔
احمد نے بتایا کہ۲۰سے۲۵ فروری تک موسم عمومی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔۲۶فروری کو موسم جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے، جبکہ۲۷؍اور۲۸فروری کو مطلع جزوی تا عمومی طور پر ابر آلود رہنے کے دوران چند مقامات پر ہلکی بارش یا برفباری کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
مارچ کے پہلے ہفتے کی پیش گوئی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یکم سے ۳مارچ تک موسم عمومی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور بالائی علاقوں میں چند مقامات پر ہلکی بارش یا برفباری ہو سکتی ہے۔۴سے۷مارچ تک موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کسانوں کو زرعی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سات روز کے دوران بیشتر مقامات پر کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔










