جموں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران سوالیہ وقفہ میں ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مختلف اہم امور پر ایوان کو آگاہ کیا۔
پروفیسر گھارو رام بھگت کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت خالی اسامیوں کو مقررہ مدت کے اندر پُر کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور رواں برس۳۰ہزار سے زائد اسامیاں پُر کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ مختلف سرکاری محکموں میں ریٹائرمنٹ، ترقی، استعفوں اور دیگر انتظامی وجوہات کی بنا پر وقتاً فوقتاً اسامیاں خالی ہوتی رہتی ہیں، جن میں فیلڈ سطح کی پوسٹیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خالی اسامیوں کی باقاعدہ جانچ اور متعلقہ بھرتی ایجنسیوں کو بروقت ریفرل کے لیے ادارہ جاتی نظام موجود ہے اور یہ عمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضروری خدمات اور فیلڈ سطح کے کام متاثر نہ ہوں، اس کے لیے محکموں میں مناسب عملہ برقرار رکھا جاتا ہے اور جہاں ضرورت ہو وہاں قواعد کے مطابق عبوری انتظامی بندوبست کیا جاتا ہے۔
عمرعبداللہ نے مزید بتایا کہ اسامیوں کو جلد پُر کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں پیشگی طور پر اسامیوں کی نشاندہی اور یکجائی، بھرتی ایجنسیوں کو مقررہ وقت کے اندر سفارشات بھیجنا، طریقۂ کار کو سادہ بنانا، انتظامی سطح پر باقاعدہ نگرانی اور بھرتی کے عمل میں شفافیت و کارکردگی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
ڈاکٹر بشیر احمد شاہ ویری کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ دسمبر۲۰۲۳کے بعد بجلی کے نرخ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹر والے علاقوں میں بلنگ مکمل طور پر حقیقی بجلی کھپت کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جبکہ غیر میٹر شدہ علاقوں میں متفقہ لوڈ کے مطابق فلیٹ ریٹ پر بل جاری کیے جاتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی من مانی نہیں ہوتی۔
نرخوں کے تعین سے متعلق ضمنی سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ٹیرف کا تعین ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور نرخ اسی ادارے کی مقرر کردہ بنیادوں اور اصولوں کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔
عمرعبداللہ نے مزید واضح کیا کہ ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل نقصانات صارفین سے وصول نہیں کیے جاتے۔
ڈاکٹر دیویندر کمار منیال کے سوال (جسے رکن سریجیت سنگھ سلاتھیا نے پیش کیا) کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کیپکس بجٹ کے تحت رام گڑھ حلقہ میں 307.12 لاکھ روپے کی لاگت سے تین سیاحتی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ ایک منصوبہ زیر تکمیل ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ سال۲۰۲۶۔۲۷کے لیے سیاحتی ترقیاتی منصوبہ ابھی مرتب نہیں کیا گیا ہے، تاہم رام گڑھ حلقہ کے نئے منصوبوں پر ۲۰۲۶۔۲۷میں غور کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ طے شدہ سیاحتی اصولوں، دستیاب فنڈز اور ضروری منظوریوں پر پورا اتریں۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ، جو سیاحت کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھتے ہیں، نے بتایا کہ سدھ گوریا مندر کی ترقی و تزئین و آرائش کے لیے کیپکس بجٹ کے تحت123.41 لاکھ روپے منظور کیے گئے تھے۔ اس منصوبے میں اطراف کی خوبصورتی، پارکنگ کی تعمیر، بیت الخلاء بلاکس کی تعمیر، تالاب کی ترقی، ہائی ماسٹ لائٹس کی تنصیب اور دیگر متعلقہ کام شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جسمانی طور پر مکمل ہو چکا ہے۔










