سرینگر: علیحدگی پسندتنظیم‘بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے )نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تحویل میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار موجود ہیں، جب کہ پاکستانی فوج مبینہ طور پر اس دعوے کی تردید کر چکی ہے۔ تازہ پیش رفت میں تنظیم نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کم از کم آٹھ افراد کو دکھایا گیا ہے، جنہیں بی ایل اے اپنے مطابق پاکستانی فوجی اہلکار قرار دے رہی ہے۔
تنظیم کے میڈیا ونگ ’ہکال‘ کے ذریعے جاری کی گئی ویڈیو میں زیرِ حراست افراد کو کیمرے کے سامنے اپنی مبینہ سروس آئی ڈی کارڈز اور قومی شناختی دستاویزات دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص وردی میں ملبوس نظر آتا ہے جو شناختی کارڈ ہاتھ میں اٹھا کر سوال کرتا ہے’’اگر ہم فوجی نہیں تو یہ کارڈ کس کا ہے؟‘‘
ایک اور اہلکار مبینہ طور پر اپیل کرتا ہے کہ حکومت ان کی شناخت تسلیم کرے اور ان کی رہائی کے لیے اقدامات کرے۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ فوج کی جانب سے انکار کو ’ناانصافی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
بی ایل اے کے مطابق یہ اہلکار اس کے بیان کردہ ’آپریشن ہیروف‘کے دوسرے مرحلے کے دوران گرفتار کیے گئے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس نے سات روزہ مہلت دی ہے تاکہ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ہو سکے۔ اس ڈیڈ لائن کے مطابق اگر مذاکرات نہ ہوئے تو زیرِ حراست اہلکاروں کو سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مہلت۲۲فروری کو ختم ہو رہی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی تحویل میں موجود بلوچ قیدیوں کے بدلے ان اہلکاروں کے تبادلے پر آمادہ ہے۔ بی ایل اے یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے بعض زیرِ حراست افراد کو، جنہیں وہ نسلی بلوچ اور مقامی پولیس سے وابستہ قرار دیتی ہے، پہلے ہی رہا کر دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج نے مبینہ طور پر اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے کسی اہلکار کے لاپتا ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قیدی تبادلے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ تاحال نہ فوج اور نہ ہی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے تازہ ویڈیو پر باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔
پاکستان مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ بلوچستان میں اس کی موجودگی آئینی اور قانونی دائرے میں ہے، جبکہ بی ایل اے کو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ بی ایل اے کو نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے شورش اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں علیحدگی پسند گروہ وقتاً فوقتاً سکیورٹی فورسز اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں، جب کہ ریاست ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا دونوں فریق کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کی طرف بڑھتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ زیرِ حراست افراد کی زندگیوں سے متعلق خدشات کے پیش نظر آئندہ چند دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔










