جموں: جموںکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ حکومت۲۰۲۶میں روزانہ اجرت، ایڈہاک اور دیگر عارضی ملازمین کو قانونی اور مالی طور پر پائیدار انداز میں مستقل کرنے کا عمل شروع کرے گی، جبکہ موجودہ سال کے دوران تقریباً۳۰ہزار خالی اسامیاں پُر کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
اسمبلی میں اپنے محکموں کی گرانٹس اور کٹ موشنز پر بحث کا جواب دیتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ ڈیلی ویجرز اور عارضی کارکنوں کا مسئلہ پارٹی لائن سے بالا ہو کر اراکین نے اٹھایا اور تسلیم کیا کہ یہ مسئلہ دہائیوں سے برقرار ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ ملازمین۲۰‘۳۰ بلکہ۴۰ برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکی‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا’’لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر بحث اور بعد میں بجٹ اجلاس کے دوران میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم ان ملازمین کی مستقلی کا عمل اس سال قانونی اور مالی طور پر قابل عمل انداز میں شروع کریں گے، ان شاء اللہ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ چیف سیکریٹری کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ معاملے کا جائزہ لیا جا سکے اور ایسی پالیسی بنے جو عدالتوں یا محکمہ خزانہ میں نہ اٹک جائے۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’جیسے ہی کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور شفاف انداز میں ابتدائی کام مکمل ہوگا، ہم سب کچھ عوام کے سامنے رکھیں گے‘‘۔
جلد بازی کے کسی بھی تاثر کو مسترد کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ مستقلی ایک رات میں نہیں ہو سکتی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں محض ایک کاغذ پر دستخط کر کے بغیر تیاری کے ان ملازمین کو گمراہ کرنے کو تیار نہیں ہوں‘‘اور مزید کہا کہ ایسے کارکنوں کی تعداد چاہے۷۰ ہزار،۸۰ہزار یا ایک لاکھ مناسب ٹائم ٹیبل کے ذریعے طے کی جائے گی۔
منگل کو وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کو بتایا کہ اس وقت جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں ایک لاکھ سے زائد ڈیلی ویجرز اور کیژول مزدور کام کر رہے ہیں اور یقین دہانی کرائی کہ ان کی مستقلی کے معاملے میں قانونی طور پر پائیدار طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ افرادی قوت میں۶۹ہزار۶۹۶ کیجول مزدور‘۸۸۳۶ڈیلی ریٹڈ ورکرز،۸۵۳۴سیزنل مزدور‘۵۷۵۷فوڈ اینڈ سول سپلائیز ہیلپرز‘۲۱۵۳پارٹ ٹائم سویپرز اور۱۹۲۹؍افراد شامل ہیں جو ہسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے تعینات ہیں۔
روزگار پیدا کرنے کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آسامیوں کی تخلیق اور تقرری میں واضح فرق ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہم نے اسامیوں کی تخلیق کی ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ تقریباً۶ہزارسے۶۵۰۰اسامیوں کو پُر کیا ہے‘‘ اور دہرایا کہ حکومت اس سال نئی اسامیاں پیدا کیے بغیر تقریباً۳۰ہزارخالی اسامیاں پُر کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
عمرعبداللہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ تمام خالی اسامیاں سلیکشن بورڈ اور پبلک سروس کمیشن کے ساتھ تال میل میں شفاف اور مقررہ مدت کے اندر پُر کی جائیں گی تاکہ ماضی کی طرح قانونی پیچیدگیوں سے بھرتی عمل متاثر نہ ہو۔










