جموں: حکومت نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ نادرن ریلوے وادیٔ کشمیر میں چار نئی ریلوے لائنوں کے لیے فائنل لوکیشن سروے کر رہی ہے، اور یقین دلایا کہ منصوبوں کی منظوری کے بعد قانون کے مطابق زمین مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔
ریلوے توسیع سے متعلق ایم ایل اے جاوید حسن بیگ کے سوال کے جواب میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ مجوزہ نئی لائنوں میں بارہمولہ،اُڑی‘ سوپور،کپواڑہ‘ اننت ناگ،بجبہاڑہ‘پہلگام اور کاکہ پورہ شوپیاں شامل ہیں۔
حکومت نے کہا کہ مجوزہ لائنوں کی الائنمنٹ متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد حتمی کی گئی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے کہا’’ان منصوبوں کے لیے درکار زمین کا اندازہ لگایا جا چکا ہے اور اگر منظوری ملتی ہے تو زمین، درختوں اور ڈھانچوں کے حصول کے لیے قابل اطلاق قوانین کے مطابق زمین مالکان کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا‘‘۔
جواب میں کہا گیا ’’زرخیز زرعی زمین کے استعمال اور متاثرہ کسانوں کی بازآبادکاری سے متعلق خدشات پر حکومت نے دہرایا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے مرحلے میں قانونی دفعات کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے گا‘‘۔
ماحولیاتی تحفظات کے بارے میں جواب میں کہا گیا کہ حکومت ہند کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد ماحولیاتی پالیسی اور تازہ رہنما خطوط کے مطابق جنگلات کی کٹائی، مٹی کے کٹاؤ، آبی وسائل میں خلل اور ماحولیاتی عدم توازن جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام تدارکی اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومت نے مزید کہا کہ منصوبے کے نفاذ کے دوران حکومت ہند اور انڈین ریلوے کے ساتھ تال میل رکھا جائے گا تاکہ سماجی اور ماحولیاتی اثرات کم سے کم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات نافذ کیے جائیں۔
اس میں مزید کہا گیا کہ عملدرآمد کے مرحلے کے دوران ضلعی انتظامیہ مقامی خدشات کے ازالے اور ماحولیاتی و سماجی حفاظتی ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کے لیے شامل رہے گی۔
اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں اعتراف کیا ہے کہ ضلع کپوارہ کے سرحدی علاقے کیرن کو ہر سال سخت سردیوں میں بھاری برفباری کے باعث ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ کاری میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے مقامی آبادی اور علاقے میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی روزمرہ آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔
یہ بات وزیر برائے تعمیرات عامہ نے رکن اسمبلی میر سیف اللہ کے تحریری سوال کے جواب میں بتائی۔
حکومت نے کہا کہ برفباری کی وجہ سے اگرچہ سطحی آمدورفت بعض اوقات عارضی طور پر منقطع ہو جاتی ہے، تاہم انتظامیہ پیشگی اقدامات کے ذریعے حالات سے نمٹنے اور مشکلات کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
وزیر نے بتایا کہ اشیائے ضروریہ کی فراہمی، برف ہٹانے کے آلات کی تعیناتی اور ہنگامی صورتحال میں نقل و حمل کی سہولیات کو یقینی بنانے جیسے اقدامات بروقت انجام دیے جاتے ہیں۔
رکن اسمبلی نے کیرن میں ایک سرنگ کی تعمیر کے لیے تفصیلی منصوبہ رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری سے متعلق حکومتی یقین دہانی کے بارے میں سوال کیا تھا، جس کے جواب میں حکومت نے واضح کیا کہ کیرن سیکٹر میں کسی سرنگ کی تجویز فی الوقت زیرِ غور نہیں ہے۔ حکومتی جواب کے مطابق سرنگ کی تعمیر سے متعلق کوئی ڈی پی آر تیار نہیں کی گئی۔
تاہم حکومت نے بتایا کہ دال برج تا کیرن سڑک کی تعمیر نیشنل ہائی اسپیڈ لمیٹڈ کے پیویڈ شولڈر معیارات کے تحت جاری ہے، اور اس منصوبے کی پیش رفت 34.08 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
وزیر کے مطابق چونکہ سرنگ سے متعلق کوئی تجویز نہیں ہے، اس لیے اسے مرکزی حکومت کو بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔










