جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں جمعرات کے روز ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسپیکر نے پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ کی وہ قرار داد باقاعدہ طور پر منظورِ بحث کر لی جس میں ملک بھر میں کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے نفرت انگیز حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پرہ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ، تاجروں اور محنت کشوں کے ساتھ پیش آنے والے دھونس، تشدد اور ہراسانی کے واقعات نہ صرف فکرمند کن ہیں بلکہ وفاقی اقدار کے بھی منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے، اور قانون کی عملداری کو یقین بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ خط کے مطابق یہ قرار داد قانون ساز اسمبلی کے قواعدِ کار کی دفعہ۱۷۹ کے تحت قبول کی گئی ہے۔
قرار داد میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند اور ریاستی حکومتیں ایسے تمام واقعات کی فوری روک تھام، غیر جانبدارانہ تحقیق اور ملوث عناصر کے سخت قانونی احتساب کو یقینی بنائیں۔
ملک کی مختلف ریاستوں سے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے واقعات، چاہے وہ ہاسٹلوں میں کشمیری طلبہ کے ساتھ بدسلوکی ہو یا بازاروں میں کشمیری تاجروں سے جھگڑے اور حملے ، نے سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی اپوزیشن جماعتیں بھی اس مسئلے پر حکومت سے مؤثر پالیسی اور مضبوط حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
پرہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا ایک خطے کا نہیں بلکہ ہندستان کے مشترکہ سماجی تانے بانے کی حفاظت کا سوال ہے۔
ایوان میں اس پیش رفت کو مختلف جماعتوں نے اہم قدم قرار دیا ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں اقلیتوں، خصوصاً کشمیریوں کے خلاف نفرت پر مبنی کارروائیوں کے تدارک کے لیے ایک ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی سامنے آئے گی۔










