سرینگر: جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں بدھ کی شام رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے بعد جمعرات سے روزے رکھے جائیں گے۔ یہ اعلان جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام فاروقی نے کیا۔
مفتی اعظم نے بتایا کہ نمازِ مغرب کے بعد مختلف مقامات سے مستند شہادتیں موصول ہوئیں جن میں چاند نظر آنے کی تصدیق کی گئی۔
اسلام نے کہا’’مصدقہ اطلاعات کی روشنی میں پہلا روزہ جمعرات۱۹فروری کو رکھا جائے گا جبکہ تراویح کی نماز آج رات سے شروع ہوگی‘‘۔انہوں نے امتِ مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ اس مقدس مہینے کو عبادت، محاسبہ، صبر اور ہمدردی کے ساتھ گزاریں۔
مفتی اعظم نے مزید بتایا کہ یہ فیصلہ رویت ہلال کمیٹی اور سینئر علمائے کرام سے مشاورت کے بعد لیا گیا۔
اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں بھی رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے جس کے بعد مختلف کمیٹیوں نے اعلان کیا ہے کہ۱۹فروری سے رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوگا اور پورے ملک میں عقیدت اور جوش و جذبے کے ساتھ روزے کا آغاز ہوگا۔
مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ (بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ)، لکھنؤ کی مرکزی چاند کمیٹی فرنگی محل، جامع مسجد دہلی کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور آل انڈیا ملی کونسل سمیت دیگر اہم اداروں نے چاند نظر آنے کی تصدیق کی ہے۔
دارالعلوم دیوبند کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ مقامی سطح پر بادل چھائے رہنے کے باوجود ملک کے دیگر حصوں سے چاند نظر آنے کی مستند شہادتیں موصول ہوئی ہیں، جس کی بنیاد پر۱۹فروری سے ماہ مقدس کا آغاز ہوگا۔
امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے قاضی انظر عالم قاسمی کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے پٹنہ میں چاند نظر نہیں آیا لیکن رانچی، لوہردگا، دربھنگہ، گیا اور نوادہ جیسے مقامات سے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد رمضان کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔
جامع مسجد دہلی اور شاہی جامع مسجد فتح پوری کی رویت ہلال کمیٹیوں نے بھی میٹنگ کے بعد تصدیق کی کہ پہلا رمضان جمعرات۱۹ فروری کو ہوگا۔
سعودی عرب میں منگل۱۷فروری کو رمضان کا چاند نظر آگیا اور آج وہاںفروری کو پہلا روزہ رکھا گیا۔ شاہی بیان میں کہا کہ ’سعودی سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ بدھ۱۸فروری۲۰۲۶کو رمضان کا پہلا روزہ ہے۔‘
خلیجی ریاستوں متحدہ عرب امارت، قطر اور کویت میں بھی رمضان کا چاند نظر آگیا، ان ممالک میں بھی بدھ۱۸فروری کو پہلا روزہ رکھا گیا۔
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے مملکت میں تمام مسلمانوں سے منگل۱۷فروری کی شام رمضان کا چاند دیکھنے کی اپیل کی تھی۔
بیان میں درخواست کی گئی تھی کہ ’جو کوئی بھی چاند ننگی آنکھ یا دُوربین سے دیکھنے کی کوشش کرے، وہ قریب ترین عدالتی مرکز میں اپنی گواہی ریکارڈ کرائے۔‘










