کشمیر صوبے میں کھولے گئے ۱۱ مقامات میں دودھ پتھری ‘ یوس مرگ‘ولر وٹلب اور سرینگر کا ٹیولپ گارڈن بھی شامل
سرینگر: جموں کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور عوامی اعتماد کو مزید تقویت دینے کے مقصد سے انتظامیہ نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کشمیر اور جموں میں بند کیے گئے۱۴ سیاحتی مقامات کو فوراً دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک جامع سکیورٹی جائزے اور اعلیٰ سطحی مشاورتی عمل کے بعد لیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ متعدد مقامات کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا تھا، تاہم تازہ ترین سیکیورٹی جائزے میں اطمینان بخش رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق کشمیر ڈویژن کے۱۱؍ سیاحتی مراکز، جن میں یوسمرگ، دودھ پتھری (بڈگام)، ڈنڈی پورہ پارک (کوکرناگ)، پیر کی گلی، دوبجن اور پادپون (شوپیان)، آستان پورہ، ٹیولپ گارڈن (سرینگر)، تھاجواس گلیشیئر، ہنگ پارک (گاندربل) اور ولر/وٹلب (بانڈی پورہ ) شامل ہیں، فوری طور پر کھول دیے جائیں گے۔
جموں ڈویژن میں بھی تین مقامات دیوی پنڈی (ریاسی)، ماہو منگت (رامبن) اور مغل میدان (کشتواڑ) کے لیے اسی نوعیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تمام مقامات پر سیاحوں کی آمد کے لیے سیکیورٹی، ٹریفک اور انتظامی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹا جا سکے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ چار مزید مقامات، جن میں کشمیر ڈویژن کے گریز، اتھواتو اور بنگس جبکہ جموں ڈویژن کا رام کنڈ شامل ہے، کو برف ہٹتے ہی کھول دیا جائے گا۔ ان علاقوں میں اس وقت برف باری کے باعث سڑکوں پر رکاوٹیں موجود ہیں تاہم محکمہ مشینری ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مصروف ہے۔
اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھولے گئے مقامات کی مجموعی تعداد ۴۲و گئی ہے۔
گزشتہ سال۲۶ستمبر کو لیفٹیننٹ گورنر نے ۱۲سیاحتی مقامات دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس سے قبل۱۷جون کو انتظامیہ نے۱۶سیاحتی مقامات، آٹھ کشمیر اور آٹھ جموں ڈویژن میں، دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
ایشیا کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن، اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن سری نگر میں ہر بہار زبرون پہاڑیوں کے دامن میں کھل اٹھتا ہے۔ڈل جھیل کے کنارے واقع یہ باغ لاکھوں رنگ برنگے ٹیولپس کی نمائش کرتا ہے اور دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
حال ہی میں اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں سیاحتی مقامات کی بندش پر تشویش ظاہر کی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یونین ٹیریٹری سیاحت کو فروغ دے رہی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ وہ یہ معاملہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔
پہلگام حملے کے بعد وادی سے سیاحوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی تھی۔ تاہم سیکورٹی صورتحال میں بہتری، بعض مقامات کی دوبارہ کشادگی، کٹرا سے سری نگر تک وندے بھارت ٹرین کے افتتاح اور امرناتھ یاترا کی کامیاب تکمیل کے بعد سیاحوں کا ایک حصہ آہستہ آہستہ وادی کی طرف لوٹنا شروع ہو گیا ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران کشمیر میں سیاحوں کی آمد کے مسلسل ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔
سیاحتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے کی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ سیاحت نہ صرف مقامی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ کشمیر اور جموں کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے بندشوں کے باعث سیاحتی کاروبار متاثر ہوا تھا، لیکن انتظامیہ کے اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ سیاحوں کی آمد ایک بار پھر بڑھ جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ ان مقامات کی بحالی سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹرز اور مقامی دکانداروں کو فائدہ ہوگا بلکہ سیاحت سے جڑے ہزاروں خاندانوں کو بھی معاشی سہارا ملے گا۔










