جموں: تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل ماحول، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے چیلنجز کے پیش نظر ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز (ڈی آئی پی آر) نے جموں میں صحافیوں کے لیے ’اخلاقی صحافت اور صحافت کے بدلتے منظرنامے‘پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد کیا جس میں ذمہ دار اور متوازن رپورٹنگ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا گیا۔
میڈیا کمپلیکس میں منعقدہ اس پروگرام میں ماہرین نے واضح کیا کہ خبر رسانی اب محض اطلاع کی ترسیل تک محدود نہیں رہی بلکہ رائے سازی، عوامی شعور اور سماجی استحکام سے براہِ راست جڑ چکی ہے، اس لیے صحافتی اصولوں پر سمجھوتہ پورے معاشرے کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈائریکٹر اطلاعات‘ نتیش راجورا نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں صحافی فوری رفتار کے ماحول میں کام کر رہے ہیں جہاں خبر چند لمحوں میں پھیل جاتی ہے، اس لیے درستگی، غیر جانبداری، انصاف اور جوابدہی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
راجورا کے مطابق میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر دینا نہیں بلکہ باشعور اور متوازن عوامی رائے کی تشکیل بھی ہے۔ انہوں نے بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے مسلسل تربیت کو ناگزیر قرار دیا۔
ریجنل ڈائریکٹر آئی آئی ایم سی ڈاکٹر دلیپ کمار اور اسسٹنٹ پروفیسر وشاو نے صحافت کے ابھرتے رجحانات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اثرات اور غلط معلومات کے بڑھتے خطرات پر تفصیلی گفتگو کی۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال کے دور میں خبر کی تصدیق اور اخلاقی معیار کی پاسداری ہی صحافت کی ساکھ کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات ڈاکٹر ظہور احمد رینہ نے میڈیا میں دیانت داری اور اعتماد کو بنیادی ستون قرار دیا جبکہ جوائنٹ ڈائریکٹر جموں دیپک دوبے نے کہا کہ آئندہ بھی ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ صحافتی اداروں اور حکومت کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون مضبوط ہو اور ذمہ دار صحافت کو فروغ ملے۔
ورکشاپ میں ایک تعاملی نشست بھی ہوئی جس میں صحافیوں نے پیشہ ورانہ اخلاقی مسائل پر ماہرین سے رہنمائی حاصل کی۔ تقریب میں محکمہ اطلاعات کے افسران کے علاوہ قومی و مقامی میڈیا اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔










