نئی دہلی /13فروری //
وزیرِ تجارت و صنعت نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے کئی ایسی اسکیمیں نافذ کی ہیں جن سے کروڑوں کسانوں کی زندگی بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے میں ملک کے کسانوں کے مفادات کو سب سے اوپر رکھا گیا اور انہیں مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔‘‘
وزیرِ تجارت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس معاہدے میں ہندوستان میں گندم، چاول، باجرا، سویا میل، مکئی، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذائی مصنوعات، مصالحہ جات اور آلو جیسے تمام بڑے زرعی اجناس کی منڈی کو پوری طرح محفوظ رکھا گیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان میں جینیاتی تبدیلی سے تیار کردہ غذائی فصلوں کی کاشت اور تجارت کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاہدے میں سیب سمیت اہم پھل اگانے والے کسانوں کے مفادات کا بھی مکمل تحفظ کیا ہے۔ ڈیری یا پولٹری مصنوعات کے لیے بھی ہندوستان کے دروازے نہیں کھولے گئے ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ ہماری کئی مصنوعات جن میں باسمتی چاول، پھل، مصالحے، چائے اور بحری مصنوعات شامل ہیں انہیں نئے بازار ملیں گے، برآمدات بڑھیں گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔‘‘
کپاس کی درآمد میں چھوٹ سے متعلق تنقید پر مسٹر گوئل نے کہا، ’’ہم نے سوتی کپڑوں کی برآمد کے لیے بڑے بازار کھولے ہیں جس سے یہاں سوت کی مانگ کئی گنا بڑھ جائے گی اور کپاس اگانے والے کسانوں کو مجموعی طور پر فائدہ ہوگا۔‘‘
مسٹر گوئل نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ملک کے کسانوں، نوجوانوں اور ہر ہندوستانی کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ راہل گاندھی نے کبھی ہمارے کسانوں کے فائدے کی فکر کی یا وہ کبھی سمجھیں گے کہ ہمارے انّ داتاؤں کے لیے کیا بہتر ہے۔‘‘
وزیرِ تجارت نے راہل گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہے جتنا بھی جھوٹ بولیں ہمارے کسانوں کو گمراہ کرنے یا ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کریں لیکن نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک باوقار، خوشحال، طاقتور، خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک بن کر رہے گا۔










