ہفتہ, ستمبر 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر

 حکومت کی جانب سے ملنے والی باقاعدہ گرانٹس کئی برسوں سے جمود کا شکار ‘طویل تعطل تعلیمی کیلنڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے :ماہرین

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

سرینگرو جموں ماسٹر پلان میں مجوزہ ترمیم پر غور

یومِ اساتذہ:ملک میں ہر سال ۵ستمبر کو یوم اساتذہ کیوں منایا جا تا ہے

سرینگر: یہاں موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق مظفرآباد میں یونیورسٹی آف ’آزاد جموں و کشمیر‘ میں اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے غیر ادا شدہ تنخواہی اضافوں پر احتجاج کے بعد تدریسی اور انتظامی کام معطل کر دیا گیا ہے، جس سے تمام پانچ کیمپس بند ہو گئے اور۸ہزارسے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔
عملے کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ آٹھ ماہ سے حکومت کی منظور شدہ تنخواہی اضافہ اور الاؤنسز موصول نہیں ہوئے، جن میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے تحت ادائیگیاں شامل ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اگرچہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے، لیکن یونیورسٹی کو ان پر عمل درآمد کے لیے درکار فنڈز کبھی موصول نہیں ہوئے، جس سے ملازمین اپنے قانونی واجبات سے محروم رہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق یہ تعطل عارضی بدانتظامی کے بجائے ایک گہرے ساختیاتی مالی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
اندرونی مالی تخمینوں کے مطابق مالی سال ۲۰۲۵۔۲۶ کے لیے مظفر آباد کی یونیورسٹی کی متوقع آمدنی تقریباً 1.85 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 2.52 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جس سے سالانہ خسارہ۶۷۰ملین روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ جب سابقہ واجبات اور حالیہ تنخواہی اضافے شامل کیے جائیں تو فنڈنگ کا خلا ایک ارب روپے سے بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی کے کل اخراجات کا۸۵فیصد سے زیادہ لازمی مدات جیسے تنخواہوں اور پنشن سے وابستہ ہے۔ تنخواہیں تقریباً۶۳ فیصد اخراجات پر مشتمل ہیں جبکہ پنشن۲۲فیصد سے زیادہ ہے، جس سے لیبارٹریوں، انفراسٹرکچر کی مرمت اور تعلیمی ترقی کے لیے محدود فنڈز باقی رہتے ہیں۔
قبل ازیں ڈان اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ یونیورسٹی پر مالی دباؤ اس وقت بڑھ گیا جب اس کے سابقہ ملٹی کیمپس نظام کی تنظیم نو کی گئی۔ جب میرپور، کوٹلی اور راولا کوٹ کیمپس کو علیحدہ جامعات کا درجہ دیا گیا تو آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے تقسیم ہو گئے، مگر پنشن اور ریٹائرمنٹ کی ذمہ داریاں بڑی حد تک’یونیورسٹی آف آزاد جموںکشمیر‘ کے پاس ہی رہیں۔ اس عدم توازن نے تقریباً۵۶۰ملین روپے سالانہ کے مستقل پنشن بوجھ میں اضافہ کیا۔
اسی دوران حکومت کی جانب سے ملنے والی باقاعدہ گرانٹس کئی برسوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال ایک مرتبہ ملنے والی خصوصی گرانٹ نے عارضی ریلیف تو دیا مگر ساختیاتی خسارہ ختم نہ کر سکی۔ پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وفاقی معاونت جاری ہے، مگر تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے اخراجات کے باعث مجموعی بجٹ میں اس کا حصہ مؤثر طور پر کم ہوتا جا رہا ہے۔
پالیسی تبدیلیوں نے آمدنی کے ذرائع کو مزید کمزور کیا ہے۔ تعلیمی تجزیہ کاروں کے مطابق نجی بی ایس سی/بی ایس سی ؍اور ایم اے/ایم ایس سی پروگراموں کے خاتمے‘ جو کبھی فیس آمدنی کا بڑا ذریعہ تھے ‘سے یونیورسٹی کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ سرکاری کالجوں میں بی ایس پروگراموں کی توسیع نے داخلوں کو بھی منتقل کر دیا، جس سے ٹیوشن آمدنی کم ہوئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے کفایتی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن میں نئی بھرتیوں پر پابندی، غیر تنخواہی اخراجات میں کمی اور توانائی بچت اقدامات شامل ہیں۔ تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اقدامات طویل مدتی فنڈنگ خلا کو بند نہیں کر سکتے۔
تعلیمی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل تعطل تعلیمی کیلنڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو کمزور کر سکتا ہے۔ مذاکرات جاری رہنے کے دوران طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران مقبوضہ جموںکشمیر میں سرکاری اعلیٰ تعلیمی نظام کے مالی ماڈل کی وسیع تر کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’عوامی صحت پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا‘:باسی گوشت معاملے پر  اسمبلی اسپیکر کابیان

Next Post

’جموں کشمیر میںدو برسوں میں۲۱ہزار سے زائد کینسر کیسز رپورٹ‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

سرینگرو جموں ماسٹر پلان میں مجوزہ ترمیم پر غور

2026-09-04
یومِ اساتذہ:ملک میں ہر سال ۵ستمبر کو یوم اساتذہ کیوں منایا جا تا ہے
اہم ترین

یومِ اساتذہ:ملک میں ہر سال ۵ستمبر کو یوم اساتذہ کیوں منایا جا تا ہے

2026-09-04
لداخ کے تمام۷ ؍ اضلاع میں خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی منظوری
اہم ترین

لداخ کے تمام۷ ؍ اضلاع میں خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی منظوری

2026-09-04
  آئی جی پی کشمیر کا ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی صوتحال کا جائزہ
اہم ترین

  آئی جی پی کشمیر کا ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی صوتحال کا جائزہ

2026-09-04
 سنہا کی دہلی میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات
اہم ترین

 سنہا کی دہلی میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات

2026-09-04
یاسین ملک کے خلاف سزائے موت کی این آئی اے کی اپیل پر دہلی ہائی کورٹ 22 اپریل کو سماعت کرے گی
اہم ترین

 یاسین ملک کاپاکستانی اہلیہ سے طلاق کا فیصلہ

2026-09-04
بانڈی پورہ میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو معاونین گرفتار:پولیس
اہم ترین

ریاسی کے جنگلات میں ’’جنگی نوعیت‘‘ کا اسلحہ و گولہ بارود برآمد، گرینیڈ اور 184 کارتوس ضبط

2026-09-04
اے سی بی کی کارروائی کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے چار اہلکار معطل
اہم ترین

طویل غیر مجاز غیر حاضری پر ڈاکٹر  کو ملازمت سے برطرف کردیا

2026-09-04
Next Post
’جموں کشمیر میںدو برسوں میں۲۱ہزار سے زائد کینسر کیسز رپورٹ‘

’جموں کشمیر میںدو برسوں میں۲۱ہزار سے زائد کینسر کیسز رپورٹ‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.