نہیں یہ بھول کر بھی نہ سوچیئے کہ کشمیر ……. جموں کشمیر ایک چھوٹی موٹی سی جگہ ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ……. اس کا ہو نا یا نہ ہونا ایک جیسا ہے ……. اور اس لئے ہے کہ ہم ملک کی آبادی کا مشکل سے ایک فیصد ہیں ۔ نہیں صاحب ایسا بالکل بھی کہ سوچیئے …….اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو ……. تو یہ بالکل غلط ہے …….یہ منفی سوچ ہے اور منفی سوچ کے منفی اثرات ہو تے ہیں ……. اس لئے جناب اگر آپ بھی ایسا سوچتے ہیں تو ہماری آپ سے التجا ہے کہ آپ اس سوچ……. منفی سوچ سے باہر آجائیے اور……. اور سوچ لیجئے ‘ سوچیں نہ بلکہ اس پر یقین کیجئے کہ ہم اہم نہیں ‘ اہم ترین ہیں …….دنیا میں ہمارا……. جموںکشمیر کا اہم ترین مقام اور منصب ہے …….امریکہ سے بھی اہم ۔ دنیا ہماری رائے کا احترام کرتی ہے ‘ اسے کسی بھی مسئلہ پر ہماری رائے کا انتظار رہتا ہے اور ……. اور جب ہم کسی مسئلہ پر کسی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو ہماری رائے ہی دنیا کی رائے بن جاتی ہے ……. دنیا ہم سے مختلف رائے رکھنے کی متحمل نہیںہو سکتی ہے ……. اس میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ ایسی رائے رکھے جو ہماری رائے سے متصادم ہو ۔ اس لئے صاحب یہ اہم نہیں بلکہ انتہائی اہم ہے کہ ہم ہر ایک چھوٹے بڑے اشو ‘ مسئلے ‘ واقعہ پر کوئی رائے پیش کریں ۔اور اسی بات کا احساس کرتے ہو ئے کسی صحافی ……. جموں میں کسی صحافی نے اپنے نائب وزیر اعلیٰ‘چودھری سرندر سنگھ جی سے پوچھا……. جمعرات کو یہ پوچھا کہ جناب بنگلہ دیش میں آج الیکشن ہو رہے ہیں ‘ اس پر آپ کی کیا رائے ہے ؟احمق ہیں ‘ نائب وزیر اعلیٰ احمق ہیں جنہوں نے صحافی کو بتایا کہ صاحب الیکشن بنگلہ دیش میں ہو رہے ہیں ‘ وہ اس ملک کا داخلی معاملہ ہے ‘ ہمیں ……. جموں کشمیر کو اس سے کیا لینا دینا ہے جو آپ اس بارے میں مجھ سے سوال کررہے ہیں ……. یقینا چودھری صاحب احمق ہیں ۔ نائب وزیر اعلیٰ کو چاہئے تھا کہ وہ اس پر اپنی رائے دیتے اور ضرور دیتے…….اس لئے دیتے کیونکہ ……. دنیا کو ہماری رائے کا انتظار تھا …….اور اس لئے تھا تاکہ وہ بھی بنگلہ دیش کے الیکشن پر اپنی رائے قاہم کر لے ۔چودھری صاحب !یہ آپ نےکیا کیا ‘ آپ نے ہمیں سچ میں مایوس کیا اور……. اور جموںکشمیر کی بین الاقوامی سطح پر اہمیت کو نظر انداز کیا اور سو فیصد کیا ۔ ہے نا؟




