نئی دہلی 12 فروری (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روزں نئے سرکاری دفاتر کے کمپلیکس ‘تیرتھ بھون کمپلیکس’ کے نام کا افتتاح کریں گے جہاں وزیر اعظم کا دفتر، قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ اور کابینہ سکریٹریٹ واقع ہیں جو پہلے الگ الگ عمارتوں میں تھے۔
بعد میں وزیر اعظم سیوا تیرتھ اور کرتویہ بھون-1 اور کرتویہ بھون-2 کا باضابطہ افتتاح کریں گے اور شام کو سیوا تیرتھ میں ایک جلسہ سے خطاب بھی کریں گے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے جمعرات کو بتایا کہ ان عمارتوں کا افتتاح ملک کے انتظامی طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے میں ایک انقلابی سنگ میل ہے۔ یہ ایک جدید، موثر، قابل رسائی اور شہری مرکوز نظامِ حکمرانی کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
کئی دہائیوں تک حکومت کے متعدد اہم دفاتر اور وزارتیں سینٹرل وسٹا کے مختلف مقامات پر پھیلے ہوئے، پرانے اور بوسیدہ ڈھانچے میں کام کر رہی تھیں۔ اس بکھراؤ کی وجہ سے انتظامی خامی، باہمی رابطے میں مشکلات، بڑھتے ہوئے رکھ رکھاؤ کے اخراجات اور غیر موزوں دفتری ماحول جیسے مسائل پیدا ہوتے رہے۔ نئی عمارتوں کے کا یہ کمپلیکس ان مسائل کا حل پیش کر تا ہے، کیونکہ انتظامی امور کو جدید اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ سہولیات کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔
سیوا تیرتھ میں وزیر اعظم کا دفتر (پی ایم او)، قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ اور کابینہ سکریٹریٹ قائم کیے گئے ہیں، جو اس سے قبل مختلف مقامات پر واقع تھے۔
کرتویہ بھون-1 اور 2 میں متعدد اہم وزارتیں قائم ہوں گی۔ جن میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، وزارتِ کارپوریٹ امور، وزارتِ تعلیم، وزارتِ ثقافت، وزارتِ قانون و انصاف، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ زراعت و کسان بہبود، وزارتِ کیمیکلز و کھاد اور وزارتِ قبائلی امور شامل ہیں۔
دونوں عمارتوں میں ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ دفاتر، منظم عوامی رابطہ زونز اور مرکزی استقبالیہ سہولیات موجود ہیں۔ یہ خصوصیات باہمی تعاون، کارکردگی، ہموار حکمرانی، بہتر عوامی رابطے اور ملازمین کی فلاح و بہبود کو فروغ دیں گی۔ 4-اسٹار( گریہا) معیار کے مطابق ڈیزائن کی گئی ان عمارتوں میں قابلِ تجدید توانائی کے نظام، پانی کے تحفظ کے اقدامات، کچرے کے مؤثر انتظام اور اعلیٰ کارکردگی والے تعمیراتی ڈھانچے شامل ہیں۔ یہ اقدامات ماحولیاتی اثرات کو نمایاں طور پر کم کرتے ہوئے انتظامی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔ عمارتوں میں جامع حفاظتی و سکیورٹی نظام بھی شامل ہیں۔ جیسے اسمارٹ رسائی کنٹرول سسٹمز، نگرانی کے جدید نیٹ ورکس اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا جدید انفراسٹرکچر جو افسران اورآنے والوں کے لیے محفوظ اور آسان ماحول کو یقینی بناتے ہیں۔










