سرینگر: محکمہ جنگلات و ماحولیات کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے کل جغرافیائی رقبے کا تقریباً۴۸فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ کپواڑہ، بارہمولہ اور ڈوڈہ جیسے اضلاع جنگلاتی زمین کے سب سے بڑے حصے کے حامل ہیں۔
سال۲۰۲۴۔۲۵کے ضلع وار جنگلاتی رقبے کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کا کل جغرافیائی رقبہ۴۲ہزار۲۴۱مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے۲۰ہزار۱۹۴مربع کلومیٹر جنگلات کے تحت ہے، جو مجموعی رقبے کا 47.81 فیصد بنتا ہے۔
مطلق اعداد میں ضلع ڈوڈہ سب سے زیادہ جنگلاتی رقبے کا حامل ہے، جہاں۵۵۵۵مربع کلومیٹر علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہ یونین ٹیریٹری کے کل جنگلاتی رقبے کا 27.51 فیصد بنتا ہے، جبکہ ڈوڈہ کے جغرافیائی رقبے کا 47.52 فیصد حصہ جنگلات پر محیط ہے۔
اس کے بعد بارہمولہ آتا ہے جہاں۲۶۹۰مربع کلومیٹر جنگلاتی زمین ہے، جو کل جنگلاتی رقبے کا 13.32 فیصد اور ضلع کے جغرافیائی رقبے کا 58.63 فیصد بنتا ہے۔ ادھم پور میں۲ہزار۳۴۳مربع کلومیٹر جنگلات ہیں، جو کل جنگلاتی رقبے کا 11.60 فیصد اور اس کے جغرافیائی رقبے کا 51.49 فیصد ہیں۔
ضلع کپواڑہ جنگلاتی کثافت کے لحاظ سے نمایاں اضلاع میں شامل ہے، جہاں جنگلات ضلع کے جغرافیائی رقبے کے 71.58 فیصد پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ضلع میں 1,703 مربع کلومیٹر جنگلاتی زمین ہے، جو جموں و کشمیر کے مجموعی جنگلاتی رقبے میں 8.43 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔
جنوبی کشمیر میں اننت ناگ کے۲۰۶۸مربع کلومیٹر علاقے پر جنگلات ہیں، جو کل جنگلاتی رقبے کا 10.24 فیصد اور ضلع کے جغرافیائی رقبے کا 51.91 فیصد بنتا ہے۔ پلوامہ، جس کا جغرافیائی رقبہ نسبتاً کم ہے، میں ۸۱۰مربع کلومیٹر جنگلات ہیں جو ضلع کے 57.94 فیصد حصے پر محیط ہیں۔
جموں خطے میں راجوری کے۱۲۶۷ مربع کلومیٹر علاقے پر جنگلات ہیں، جو اس کے جغرافیائی رقبے کا 48.17 فیصد بنتے ہیں، جبکہ پونچھ میں۹۵۱ بع کلومیٹر جنگلات ہیں جو 56.81 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں بالترتیب۹۹۱؍اور۹۵۹مربع کلومیٹر جنگلات ہیں، جو کٹھوعہ کے 37.38 فیصد اور جموں ضلع کے 30.97 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں۔
ضلع سرینگر میں جنگلاتی رقبہ سب سے کم ہے، جہاں۳۸۰مربع کلومیٹر علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے، جو کل جنگلاتی رقبے کا 1.88 فیصد اور ضلع کے جغرافیائی رقبے کا 17.06 فیصد بنتا ہے۔ بڈگام میں۴۷۷مربع کلومیٹر جنگلاتی زمین ہے، جو ضلع کے 34.79 فیصد رقبے پر محیط ہے۔
محکمہ کے مطابق یہ اعداد و شمار لائن آف کنٹرول کے اِس پار کے علاقوں سے متعلق ہیں اور چین اور پاکستان کے غیر قانونی قبضے والے خطوں کو شامل نہیں کیا گیا۔










