منگل, اکتوبر 27, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

بجٹ کے اعداد اور عوام کی امیدیں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-08
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

اونتی پورہ ایمز کی فعالیت: وادی کے طبی نظام میں بہتری کی ایک نئی امید

سرما سے پہلے بجلی بحران کی دستک

جموں و کشمیر کے لیے مالی سال 2026۔27 کا ایک لاکھ 27 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ ایسے وقت پیش ہوا ہے جب خطہ بیک وقت معاشی بحالی، روزگار کے دباؤ اور سیاسی توقعات کے ایک پیچیدہ دوراہے پر کھڑا ہے۔ حکومت اسے پائیدار ترقی، سماجی ہم آہنگی اور معاشی خوشحالی کی بنیاد قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے بے سمت اور غیر مؤثر دستاویز بتا رہی ہے۔ حقیقت ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں موجود ہے ایک ایسا بجٹ جس میں امکانات بھی ہیں اور خدشات بھی۔
سب سے پہلے اس بجٹ کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مالی نظم و ضبط کے اشاریے نسبتاً بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ مالی خسارہ کم ہو کر تقریباً تین فیصد کے قریب آنا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں استحکام اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کم از کم حسابی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح ریاستی جی ڈی پی میں متوقع اضافہ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معیشت مکمل جمود کا شکار نہیں بلکہ بتدریج بحالی کے عمل سے گزر رہی ہے، چاہے یہ رفتار ابھی مطلوبہ سطح تک نہ پہنچی ہو۔
فلاحی اقدامات میں تعلیمی شعبہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کے لیے نویں جماعت سے کالج تک مفت تعلیم کا اعلان طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس پر صحیح معنوں میں عمل ہو تو یہ فیصلہ اگلی دہائی میں سماجی نقل و حرکت کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ اسی طرح چھ مفت ایل پی جی سلنڈر، یتیم بچوں کے لیے مالی امداد اور معذور افراد کے لیے مفت ٹرانسپورٹ جیسی اسکیمیں فوری ریلیف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسے اقدامات سیاسی نعروں سے زیادہ انسانی ضرورتوں سے جڑے ہوتے ہیں اور یہی کسی بھی بجٹ کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔
زرعی شعبے کے لیے فصل بیمہ، مائیکرو ایریگیشن اور اسٹوریج میں توسیع جیسے اقدامات بھی اہم ہیں۔ جموں و کشمیر کی معیشت اب بھی بڑی حد تک زراعت، باغبانی اور سیاحت پر منحصر ہے، اس لیے ان شعبوں میں تحفظ اور جدید کاری ناگزیر ہے۔ خاص طور پر سیب اور زعفران جیسی نقد آور فصلوں کے لیے بیمہ کسانوں کو موسمی اور منڈی کے خطرات سے بچا سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ مارکیٹنگ اور برآمدی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا جائے تو یہ اقدامات حقیقی معاشی بہتری کا باعث بن سکتے ہیں۔
مگر بجٹ کا اصل امتحان اعلانات نہیں، ترجیحات ہوتی ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سوالات جنم لیتے ہیں۔ خطے کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے، خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوانوں میں۔ بجٹ میں روزگار کے بڑے اور واضح پروگرام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ صنعتی بھرتیوں میں مقامی نوجوانوں کی ترجیح ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن یہ پالیسی تبھی مؤثر ہوگی جب صنعتوں کی تعداد اور سرمایہ کاری میں حقیقی اضافہ ہو۔ بصورت دیگر یہ محض کاغذی ترجیح بن کر رہ جائے گی۔
اسی طرح یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کی مستقلی کے بارے میں واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ یہ طبقہ گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری نظام کا غیر مستقل مگر ناگزیر حصہ بنا ہوا ہے۔ ان کے لیے غیر یقینی صورتحال نہ صرف سماجی بے چینی کو بڑھاتی ہے بلکہ حکومتی اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔ بجٹ اگر انسانی تحفظ فراہم نہ کرے تو محض مالی دستاویز رہ جاتا ہے۔
اپوزیشن کی تنقید کا ایک پہلو سیاسی ضرور ہے، مگر اس میں بعض عملی نکات بھی پوشیدہ ہیں۔ مثال کے طور پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی بات تو کی گئی ہے، مگر عوامی سطح پر بجلی کے اخراجات میں واضح ریلیف کا خاکہ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح شہری رہائش، چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ شعبے کے لیے مخصوص پیکیج کی عدم موجودگی قابلِ توجہ ہے، کیونکہ یہی طبقات روزمرہ معیشت کی اصل گردش کو برقرار رکھتے ہیں۔
اصل مسئلہ شاید بجٹ کے حجم کا نہیں بلکہ معیشت کے ڈھانچے کا ہے۔ جموں و کشمیر کی اقتصادی بنیاد اب بھی سرکاری اخراجات اور مرکزی امداد پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ جب تک نجی سرمایہ کاری، صنعت اور خدمات کا مقامی دائرہ وسیع نہیں ہوگا، ہر سال بجٹ پیش ہوگا مگر روزگار کی رفتار محدود رہے گی۔ اس تناظر میں بجٹ کو محض خرچ کی فہرست کے بجائے معاشی تبدیلی کا خاکہ بنانا ضروری تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ایک طرف مالی نظم و ضبط اور دوسری طرف سماجی بہبود۔ مگر عوام کے لیے اس توازن کی اصل کسوٹی روزگار اور آمدنی ہوتی ہے۔ اگر گھر کی آمدنی نہ بڑھے تو رعایتیں وقتی سہارا تو بن سکتی ہیں مگر مستقل اطمینان نہیں۔
یوں دیکھا جائے تو یہ بجٹ نہ مکمل طور پر ناکام ہے نہ فیصلہ کن کامیاب۔ یہ زیادہ درست طور پر ایک عبوری دستاویز ہے جو استحکام کی کوشش تو کرتی ہے مگر بڑی معاشی چھلانگ کا نقشہ پیش نہیں کرتی۔ حکومت نے سمت کا تعین کیا ہے مگر رفتار ابھی غیر واضح ہے۔
جموں و کشمیر جیسے حساس اور امکانات سے بھرپور خطے میں بجٹ صرف مالی منصوبہ نہیں بلکہ اعتماد کا معاہدہ ہوتا ہے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ اعداد و شمار ان کی روزمرہ زندگی میں بہتری کی صورت اختیار کریں۔ اگر تعلیم، زراعت اور بنیادی سہولیات کے وعدے عملی شکل اختیار کر گئے تو یہی بجٹ مستقبل میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، اور اگر روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو یہ بھی سابقہ بجٹوں کی طرح ایک اور دستاویز بن کر رہ جائے گا۔
اب اصل امتحان تقریر کا نہیں، عمل کا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

امتحان میں کامیابی کی ضمانت خود اعتمادی ہے، جلد بازی نہیں: وزیراعظم مودی

Next Post

بجٹ : نمبروں کا کھیل 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اونتی پورہ ایمز کی فعالیت: وادی کے طبی نظام میں بہتری کی ایک نئی امید

2026-10-25
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرما سے پہلے بجلی بحران کی دستک

2026-10-24
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں اضافہ، ایک مستحسن فیصلہ

2026-10-22
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں کشمیر پراو آئی سی کا دوہرا معیار

2026-10-21
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ہریانہ میںکشمیر کی مسافر گاڑی پرپتھراؤ: واقعہ کی تہہ تک جانے کی ضرور ہے 

2026-10-20
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

سینئر بیوکریٹ کی ایک خاتون افسر کی تذلیل             

2026-10-18
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جمہوریت کا تحفظ، احتجاج اور عدلیہ کا کردار

2026-10-14
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کابینہ میں رد و بدل یا کارکردگی کا امتحان؟

2026-10-11
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

بجٹ : نمبروں کا کھیل 

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.