جموں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ بے روزگاری کا مسئلہ صرف سرکاری نوکریوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور جموں و کشمیر کو صنعتی ترقی کو رفتار دینے کے لیے آنے والے یونین بجٹ میں ایک بڑے مرکزی صنعتی پیکیج کی توقع ہے۔
ضلع سانبہ میں جموں و کشمیر انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ(جے کے ای ڈی آئی) میں اسٹارٹ اپ میلہ کا افتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہماری یونین بجٹ سے یہ توقع ہے کہ ہمیں ایک مضبوط صنعتی پیکیج ملے۔ جموں و کشمیر کو۱۹۹۰ کے بعد صنعت کے لیے کسی قسم کا مرکزی ترغیباتی پیکیج نہیں ملا ہے۔ ہم مرکز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ جموں و کشمیر کو صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے ایک مؤثر اور خاطر خواہ صنعتی مراعاتی پیکیج فراہم کیا جا سکے‘‘۔
اس پروگرام کے دوران اسٹارٹ اپس کو سیڈ فنڈز فراہم کیے گئے، انکیوبیٹرز کو کیپیٹل گرانٹس جاری کی گئیں اور آئیڈیا چیلنج کے فاتحین کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بنانا ہماری مجبوری بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی، کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا، بے روزگاری صرف سرکاری نوکریوں سے حل نہیں ہو سکتی۔ بعض دیگر ریاستوں کے برعکس، میں اپنے لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ روزگار کے لیے جموں و کشمیر چھوڑ دیں‘‘۔
انہوں نے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں کشمیری شال فروشوں کے ساتھ پیش آئے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ہماچل اور اتراکھنڈ کے واقعات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اب ہمارے لوگ باہر جانے کے بجائے اندرونِ ریاست مواقع کی طرف زیادہ دیکھ رہے ہیں‘‘اور اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو یونٹس دوبارہ شروع ہونے کی پوزیشن میں ہوں گے، حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’اگر وہ دوبارہ شروع ہونے کے قابل نہ ہوں تو ہم انہیں نیا کاروبار قائم کرنے میں مدد دیں گے، اور اگر وہ اس کے بھی قابل نہ ہوں تو انہیں الاٹ کی گئی زمین واپس لے کر کسی اور کو دی جائے گی، تاکہ وہاں صنعت قائم ہو سکے‘‘۔
انٹرپرینیورشپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ناکامی کو سیکھنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایلون مسک جیسے کاروباری افراد کی مثال دی، جو ناکامی کو’کامیاب ناکامی‘ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرپرینیورشپ صرف مینوفیکچرنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ زومیٹو، بلنکٹ اور اوبر جیسی سروس اور ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تخلیقی بزنس ماڈلز میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اسٹارٹ اپس کی نشاندہی اور بے خوف فنڈنگ کی ذمہ داری مکمل طور پر حکومت اکیلی نہیں نبھا سکتی۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور جے کے ای ڈی آئی کو بااختیار بنانا ہوگا تاکہ وہ انٹرپرینیورشپ کو مؤثر طریقے سے فروغ دے سکیں۔ مثال کے طور پر، ای ڈی آئی کے سیڈ کیپیٹل کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ادارہ بہتر طریقے سے کام کر سکے۔ ای ڈی آئی کا قیام ہی دراصل کاروباری ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ دو سے تین برسوں میں نمایاں بہتری لانے پر کام کر رہی ہے اور سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں، جس سے سرخ فیتے میں کمی آئے گی اور کاروباری افراد کا قیمتی وقت بچے گا۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی بدھ کے روز طیارہ حادثے میں موت کے معاملے میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کے مطالبے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ مرحوم این سی پی رہنما کے چچا شرد پوار پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ ایک حادثہ تھا اور’’اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب مجھے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔‘‘










